دل کو چھو لینے والی باتیں — شاعری، اقوال اور کہانیاں
Dil ko chhoone wali baatein — shayari, quotes aur kahaniyan, from the heart, every day.

Follow on Facebook

آج کی غزل

Ghazal of the Day

From رقصِ عشق · Raqs-e-Ishq

سحر ہوگی

میرے دل کے حال کی اک دن تجھے خبر ہوگی
مری ہر اک ادا پہ تیری ہی نظر ہوگی

ہم نے کاٹی ہے شبِ ہجر بڑی مشکل سے
زندگی تیرے بغیر اب فقط سفر ہوگی

جس گلی سے کبھی تو گزرتا تھا ہر شام
اسی گلی سے مری بھی کبھی گزر ہوگی

میں نے ہر رات ستاروں سے یہی پوچھا ہے
کب مری قسمتِ خفتہ کی سحر ہوگی

تو جو آئے تو بہار آئے مرے آنگن میں
ورنہ ہر سمت فقط دھوپ کی لہر ہوگی

بہار آئی، وہ نہ آیا

چمن میں پھر اک بار بہار آیا
اس کی گلی کی راہوں میں غبار آیا

پھول کھلے تو ہر کلی نے تیرا نام لیا
میرے حصے میں درد ہو کے ہزار آیا

ساقی نے محفل میں ہر اک کو جام دیا
میرے لبوں تلک آتے آتے خمار آیا

تیرے بغیر ہر موسم بے رنگ گزرا
گل جو کھلا تو ترا فراق آشکار آیا

وعدہ تیرا ہر برس ادھورا رہ گیا
موسمِ گل ہر برس بے شمار آیا

لوٹ آیا

برسوں بھٹکتا رہا میں، ترے نام لوٹ آیا
دل کی ویران فضا میں ترا پیغام لوٹ آیا

خاموشیوں نے چھین لیے تھے سبھی سوال
لب پر ترے ذکر سے پھر اک کلام لوٹ آیا

جو کچھ کمایا تھا غربت میں، سب لٹا آیا ہوں
خالی ہاتھ سہی، دل مگر تمام لوٹ آیا

سر جھکائے جو چلا تھا میں کبھی اس شہر سے
آج اسی در پہ مرا احترام لوٹ آیا

تھک گیا تھا مسافت سے دل کا مسافر
تیری گلی میں آ کر اسے آرام لوٹ آیا

آج کے اشعار

Verses of the Day

From رقصِ عشق · Raqs-e-Ishq

خود سے ملنے کی خاطر کبھی بیدار نہ ہوا
خواب پلکوں پہ رہا، خواب کا اظہار نہ ہوا
— رقصِ عشق
صبر وہ نہیں جو بس چپ چاپ سہہ لیا جائے
صبر وہ ہے جو روتے ہوئے بھی شکر کیا جائے
— رقصِ عشق
جاتے جاتے وہ پلٹ کر جو دیکھا ہوتا
ٹوٹا ہوا دل پھر سے نہ ٹوٹا ہوتا
— رقصِ عشق
چمن میں پھر اک بار بہار آیا
اس کی گلی کی راہوں میں غبار آیا
— رقصِ عشق
میرے دل کے حال کی اک دن تجھے خبر ہوگی
مری ہر اک ادا پہ تیری ہی نظر ہوگی
— رقصِ عشق
برسوں بھٹکتا رہا میں، ترے نام لوٹ آیا
دل کی ویران فضا میں ترا پیغام لوٹ آیا
— رقصِ عشق

موضوعات

Themes

انگریزی اقوال

English Quotes

From Unspoken Truths · NORYVA UNSPOKEN

You do not have to say it all tonight. Only know this: it deserves to be heard.

Unspoken Truths

Nobody claps when you let go of what is hurting you.

Unspoken Truths

There is no ceremony. No witness. Just a quiet decision at an ordinary hour.

Unspoken Truths

So you carry it a little longer, out of habit, and call the weight loyalty.

Unspoken Truths

But letting go is not losing. It is putting down what was never yours to carry.

Unspoken Truths

You do not need permission. Only a free hand for what comes next.

Unspoken Truths

کہانیاں

Kahaniyan · Stories

Urdu moral stories from لیلیٰ ٹیلز · LaylaTales

بولنے والا طوطاRead Story · کہانی پڑھیں

کہتے ہیں کہ پرانے بغداد کی ایک گلی میں ایک جوہری رہتا تھا، جس کا نام صادق تھا۔ صادق کے ہیرے جواہرات اپنی چمک کے لیے مشہور تھے، مگر اس کی دکان کی اصل شہرت ایک اور چیز تھی — ایک سبز طوطا، جو سنہری سلاخوں والے پنجرے میں بیٹھا ہر آنے جانے والے کی بات دہراتا تھا۔ کوئی کہے "السلام علیکم" تو طوطا اسی لہجے میں جواب دیتا، کوئی ہنسے تو طوطا بھی ہنستا۔ بچے تو دکان کے باہر صرف اسی لیے کھڑے رہتے کہ طوطے سے اپنی آواز سن لیں۔

طوطا صادق کو ایک ملاح نے بیچا تھا۔ ملاح نے جاتے ہوئے ایک عجیب بات کہی تھی: "صاحب، یہ پرندہ صرف بولتا نہیں، یاد بھی رکھتا ہے۔ جو بات اس کے کان میں پڑ جائے، وہ کبھی اس کے دل سے نکلتی نہیں۔ دکان میں اب ایک ایسا گواہ بیٹھ گیا ہے جو جھوٹ نہیں بولتا، بس دہراتا ہے۔" صادق اس وقت ہنس دیا تھا، مگر یہ بات اسے بہت جلد سمجھ آنے والی تھی۔

صادق کے اندر ایک بری عادت تھی۔ گاہک دکان سے نکلتا تو وہ اپنے نوکر سے کہتا: "دیکھا، کتنا کنجوس آدمی تھا، گھنٹہ بھر مول بھاؤ کیا اور لیا کچھ نہیں۔" یا کسی امیر گاہک کے بارے میں کہتا: "دولت بہت ہے، عقل اللہ کی امانت ہے۔" وہ سمجھتا تھا کہ یہ باتیں دکان کی دیواروں کے اندر ہی رہتی ہیں۔

ایک دن ایک معزز گاہک دکان پر آیا۔ طوطے نے اسے دیکھتے ہی وہی جملہ دہرا دیا جو صادق نے پچھلی بار اس کے جانے کے بعد کہا تھا: "دولت بہت ہے، عقل اللہ کی امانت ہے!" دکان میں سناٹا چھا گیا۔ گاہک کا چہرہ سرخ ہو گیا اور وہ اٹھ کر چلا گیا — ہمیشہ کے لیے۔ اس شام صادق دیر تک پنجرے کے سامنے بیٹھا رہا۔ اس نے آہستہ سے کہا: "میں برسوں سمجھتا رہا کہ بات کہہ کر ختم ہو جاتی ہے۔ آج پتہ چلا، بات ختم نہیں ہوتی — بات اڑتی ہے، اور اڑ کر واپس بھی آتی ہے۔"

اس دن سے صادق کی زبان بدل گئی۔ وہ گاہک کے جانے کے بعد یا تو خاموش رہتا یا اچھی بات کہتا۔ نوکر حیران تھا کہ مالک کے لہجے میں نرمی کہاں سے آ گئی۔ طوطا اب بھی بولتا تھا، مگر اب وہ زیادہ تر یہی دہراتا: "اللہ آپ کا بھلا کرے، پھر تشریف لائیے گا۔" دکان کی فضا ہی بدل گئی — جیسے دیواروں نے بھی سکون کی سانس لی ہو۔

چند دن بعد ایک بوڑھی بیوہ اپنے مرحوم شوہر کی انگوٹھی بیچنے آئی۔ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے اور آنکھیں بار بار دکان کے دروازے کی طرف اٹھتی تھیں — اسے ڈر تھا کہ جوہری اس کی مجبوری کا فائدہ اٹھائے گا۔ صادق نے انگوٹھی دیکھی، ترازو میں رکھی، اور نرم لہجے میں کہا: "بی بی، پہلے بازار میں دو دکانوں سے اس کا بھاؤ اور کرا لو۔ پھر میرے پاس آؤ — جو سب سے زیادہ ملے، وہیں بیچنا، چاہے وہ میں نہ ہوں۔" بیوہ حیران رہ گئی۔ واپس آ کر اس نے انگوٹھی صادق ہی کو بیچی اور جاتے ہوئے کہا: "بیٹا، میرے کانوں نے جوہریوں کی بہت باتیں سنی ہیں، مگر آج پہلی بار لفظوں میں امانت کی خوشبو آئی ہے۔" اور طوطا، جیسے گواہی دے رہا ہو، بول اٹھا: "اللہ آپ کا بھلا کرے، پھر تشریف لائیے گا۔"

مگر اصل امتحان ابھی باقی تھا۔ صادق کا ایک شریکِ کار تھا، نعمان، جو ظاہر میں وفادار اور باطن میں لالچی تھا۔ شہر کے امیر نے صادق کی دکان سے ایک قیمتی ہار بننے کا حکم دیا تھا، جس کے بیچ میں ایک بڑا ہیرا جڑنا تھا۔ نعمان کے دل میں کھوٹ آیا۔ ایک رات جب دکان بند ہو چکی تھی، وہ چپکے سے اندر آیا اور سرگوشی میں منصوبہ بنانے لگا — اپنے آپ سے، جیسا کہ تنہا انسان اکثر کرتا ہے: "کل ہار جب تیار ہو جائے گا تو رات کو اصلی ہیرا نکال کر نقلی لگا دوں گا۔ صادق کو کیا خبر؟ امیر کو کیا خبر؟"

وہ یہ کہہ کر چلا گیا، یہ جانے بغیر کہ اندھیرے میں پنجرے کی دو آنکھیں جاگ رہی تھیں۔

اگلے دن ہار تیار ہوا۔ نعمان نے چالاکی سے کہا کہ ہار آج رات دکان میں ہی رکھا جائے، صبح امیر کے آدمی لے جائیں گے۔ صادق نے صندوق کی طرف ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ طوطا اچانک پوری آواز میں بول اٹھا — نعمان کی اپنی آواز، اپنی سرگوشی، لفظ بہ لفظ: "رات کو اصلی ہیرا نکال کر نقلی لگا دوں گا۔ صادق کو کیا خبر؟ امیر کو کیا خبر؟"

دکان میں موجود گاہک ٹھٹھک گئے۔ نعمان کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔ وہ کچھ کہنے ہی والا تھا کہ طوطا نے جملہ پھر دہرایا۔ صادق نے نعمان کی طرف دیکھا — اسے قاضی تک جانے کی ضرورت نہیں پڑی، سچ اپنے گواہ کے ساتھ خود حاضر تھا۔ نعمان سر جھکائے دکان سے نکلا اور پھر کبھی اس گلی میں نظر نہیں آیا۔ امیر کو جب یہ قصہ سنا تو اس نے صادق کو انعام بھیجا اور کہا: "جس دکان کی حفاظت ایک پرندہ کرے، اس کے مالک کا دل ضرور صاف ہوگا۔"

اس شام صادق نے طوطے کے پنجرے کا دروازہ کھول دیا۔ طوطا اڑا، دکان کا ایک چکر لگایا — اور واپس آ کر صادق کے کندھے پر بیٹھ گیا۔ صادق ہنس پڑا: "تم جانا نہیں چاہتے؟ ٹھیک ہے، مگر ایک وعدہ کرو — اب صرف میری اچھی باتیں دہرانا۔" پھر اس نے دکان کے دروازے کے اوپر اپنے ہاتھ سے لکھوایا: "پہلے تولو، پھر بولو — لفظ لوٹ کر آتا ہے۔" کہتے ہیں کہ بغداد کے سوداگر برسوں اپنے بچوں کو یہ دکان دکھا کر کہتے تھے: "دیکھو، یہاں ایک طوطے نے انسان کو انسان بنایا تھا۔"

اور لیلیٰ کہتی ہے، زبان سے نکلا لفظ اس طوطے کی طرح ہوتا ہے — وہ کہیں نہ کہیں بیٹھ کر دہراتا رہتا ہے، اس لیے وہی بولو جو کل اپنے سامنے سن سکو۔ 🌙

📌 اخلاقی سبق: زبان سے نکلا لفظ اور کمان سے نکلا تیر، دونوں واپس نہیں آتے۔ جو بات چھپ کر کہی جائے وہ بھی کہیں نہ کہیں محفوظ ہو جاتی ہے، اور سچ اگر وقت پر سامنے آئے تو وہی سب سے بڑی حفاظت بن جاتا ہے۔ اس لیے پہلے تولو، پھر بولو۔

اندھے بزرگ کا چراغRead Story · کہانی پڑھیں

کہتے ہیں کہ ایک پرانے شہر کی تنگ گلیوں میں ایک بزرگ رہتے تھے، جن کا نام نور الدین تھا۔ نور الدین جوانی میں ہی بینائی کھو بیٹھے تھے، مگر شہر کا بچہ بچہ انہیں "چراغ والے بابا" کہتا تھا۔ وجہ یہ تھی کہ وہ ہر رات، بلا ناغہ، ہاتھ میں ایک روشن چراغ لیے گلیوں سے گزرتے اور مسجد کے پاس والے چوک تک جاتے۔ برسا ہو یا آندھی، ان کا چراغ وقت پر گلی میں نظر آتا — جیسے اندھیرے میں کوئی چھوٹا سا سورج نکل آیا ہو۔

لوگ حیران ہوتے تھے۔ ایک رات محلے کے ایک نوجوان نے، جس کا نام اسلم تھا اور جو تیل بیچنے کا کام کرتا تھا، ہنستے ہوئے پوچھ ہی لیا: "بابا! معاف کیجیے گا، مگر آپ تو دیکھ ہی نہیں سکتے۔ یہ چراغ آپ کس کے لیے جلاتے ہیں؟ آپ کے لیے تو روشنی اور اندھیرا برابر ہے۔"

بزرگ رک گئے۔ ان کے چہرے پر ایک پرانی مسکراہٹ آئی۔ انہوں نے کہا: "بیٹا، تم ٹھیک کہتے ہو — یہ چراغ میرے لیے نہیں ہے۔ یہ تمہارے لیے ہے، اور ہر اس مسافر کے لیے جو اس گلی سے گزرتا ہے۔ میں دیکھ نہیں سکتا، مگر تم تو دیکھ سکتے ہو۔ چراغ جلتا رہے گا تو تم مجھے آتا دیکھ لو گے، راستہ دے دو گے، اور نہ تم ٹھوکر کھاؤ گے، نہ میں۔ روشنی ہمیشہ اپنے لیے نہیں ہوتی، بیٹا — کبھی کبھی دوسروں کے راستے کے لیے بھی ہوتی ہے۔"

اسلم ہنس کر آگے بڑھ گیا۔ دل میں اس نے سوچا کہ بزرگ بھی عجیب باتیں کرتے ہیں — اپنی اندھیری آنکھوں کے لیے دوسروں کو روشنی دینا، یہ کہاں کی عقلمندی ہے؟ وہ تو ہر چیز کو نفع اور نقصان سے تولنے والا نوجوان تھا۔ تیل کا مٹکا، تول کا بانٹ، دن کی کمائی — اس کی دنیا انہی حسابوں میں سمٹی ہوئی تھی۔

محلے کے لوگ البتہ بزرگ کی قدر جانتے تھے۔ سردیوں میں کوئی ان کے دروازے پر چراغ کے لیے تیل کی بوتل رکھ جاتا، کوئی بتیاں بنا کر دے جاتا، اور کوئی خاموشی سے چراغ کا شیشہ صاف کر دیتا۔ بزرگ ہر ایک کو ایک ہی دعا دیتے: "اللہ تمہارے راستے روشن رکھے۔" ایک بار ایک چھوٹی سی بچی دھند میں راستہ بھول کر روتی ہوئی اسی موڑ پر آ لگی جہاں بزرگ کھڑے ہوتے تھے۔ وہ ڈر کر چراغ کی روشنی کے دائرے میں سمٹ گئی اور وہیں بیٹھ کر ماں کا انتظار کرنے لگی۔ محلے والے اسے ڈھونڈتے ہوئے آئے تو بچی نے کہا: "میں اندھیرے سے نہیں ڈری، بابا کا چراغ جل رہا تھا۔" اس رات کئی گھروں کے دروازوں پر پہلی بار اپنے اپنے چراغ بھی جل اٹھے تھے — مگر صبح تک وہ سب بھول چکے تھے کہ یہ عادت انہیں کس نے سکھائی تھی۔

دن گزرتے گئے۔ ایک رات شہر پر ایسی گھٹا چھائی کہ چاند ستارے سب چھپ گئے اور دھند گلیوں میں اتر آئی۔ اسی رات شہر کے باہر سے ایک قافلہ واپس آ رہا تھا — اونٹوں پر سامان لدا تھا اور ان کے ساتھ عورتیں اور بچے بھی تھے۔ گلی کا وہ موڑ جہاں ایک پرانا کنواں برسوں سے بے ڈھکنا پڑا تھا، اندھیرے میں کسی کو نظر نہیں آ رہا تھا۔ قافلے کا پہلا اونٹ اسی موڑ کی طرف بڑھ رہا تھا۔

اسی لمحے موڑ کے اس پار ایک روشنی ٹمٹمائی۔ قافلے والے نے رک کر دیکھا — چراغ والے بابا اپنی جگہ کھڑے تھے، جہاں وہ ہر رات کھڑے ہوتے تھے۔ روشنی میں کنویں کا منہ صاف نظر آ گیا۔ قافلہ رک گیا، راستہ بدلا، اور سب جانور اور انسان سلامتی سے گزر گئے۔ قافلے کے سردار نے اتر کر بزرگ کا ہاتھ چوما اور کہا: "بابا، آپ کے اس چھوٹے سے چراغ نے آج کئی جانیں بچا لی ہیں۔"

خبر محلے میں پھیل گئی، مگر اسلم اب بھی دل میں کہتا تھا کہ یہ اتفاق تھا۔ پھر ایک ہفتے بعد بزرگ بیمار پڑ گئے۔ تین راتیں ان کا چراغ گلی میں نظر نہ آیا۔ تیسری رات وہی اسلم اپنے تیل کے مٹکے سر پر اٹھائے اسی گلی سے گزر رہا تھا۔ دھند اور اندھیرا ایسا تھا کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیتا تھا۔ اچانک اس کا پاؤں اسی کنویں کے کنارے کی ٹوٹی اینٹ پر پڑا — وہ لڑھکا، مٹکا چھوٹا، اور وہ خود کنویں کی طرف جھک گیا۔ آخری لمحے میں اس نے کنارے کی لکڑی پکڑ لی اور چیخا۔

شور سن کر محلے والے دوڑے، رسی ڈالی، اور اسلم کو نکال لیا۔ وہ کانپ رہا تھا۔ زمین پر بیٹھ کر اس نے پہلی بات یہ کہی: "آج بابا کا چراغ ہوتا تو میں اس کنویں کے قریب ہی نہ جاتا۔ میں تین راتوں سے اس گلی میں اندھیرا دیکھ رہا تھا، مگر سمجھا آج — یہ اندھیرا تو برسوں سے تھا، بس ایک بزرگ اسے ہر رات اپنے حصے کی روشنی سے کاٹ دیتے تھے، اور ہم سمجھتے تھے کہ گلی خود روشن ہے۔"

صبح اسلم بزرگ کے گھر گیا، ان کے قدموں میں بیٹھا اور کہا: "بابا، میں آپ پر ہنسا تھا۔ آج سے آپ کا چراغ میں جلاؤں گا — جب تک آپ ٹھیک نہیں ہو جاتے، اور اس کے بعد بھی، آپ کے ساتھ چلوں گا۔" بزرگ نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا: "بیٹا، چراغ جلانا مشکل نہیں، مشکل یہ ماننا ہے کہ روشنی بانٹنے سے کم نہیں ہوتی۔ شمع سے شمع جلتی ہے تو دونوں کا نور بڑھتا ہے، گھٹتا کسی کا نہیں۔"

بزرگ ٹھیک ہو گئے، مگر اب گلی میں ایک نہیں، دو چراغ نظر آتے تھے — ایک بزرگ کے ہاتھ میں، ایک نوجوان کے ہاتھ میں۔ اور کہتے ہیں کہ اس شہر میں پھر کسی نے کسی اندھے کو چراغ اٹھائے دیکھ کر نہیں ہنسا، کیونکہ سب جان گئے تھے کہ کچھ لوگ اپنے لیے نہیں جیتے — وہ دوسروں کے راستوں کے لیے جلتے ہیں، خاموشی سے، بلا ناغہ، بغیر کسی شکوے کے۔

اور لیلیٰ کہتی ہے، جس کے پاس دو آنکھیں ہوں وہ بھی اندھا ہو سکتا ہے، اور جس کے پاس آنکھیں نہ ہوں وہ بھی پورے شہر کی روشنی بن سکتا ہے — فرق آنکھوں کا نہیں، نیت کا ہوتا ہے۔ 🌙

📌 اخلاقی سبق: نیکی ہمیشہ اپنے فائدے کے لیے نہیں ہوتی۔ کچھ روشنیاں دوسروں کے راستے کے لیے جلائی جاتی ہیں، اور وہی روشنی ایک دن جلانے والے کو بھی ٹھوکر سے بچا لیتی ہے۔ روشنی بانٹنے سے کم نہیں ہوتی — شمع سے شمع جلتی ہے تو نور بڑھتا ہے۔

دو بھائی اور گندم کی بوریاںRead Story · کہانی پڑھیں

کہتے ہیں کہ ایک سرسبز وادی کے ایک گاؤں میں دو بھائی رہتے تھے — بڑا سالم اور چھوٹا حامد۔ والد کے انتقال کے بعد دونوں کو ایک کھیت اور ایک بڑا سا کھلیان ورثے میں ملا۔ دونوں نے والد کی وصیت کے مطابق ہر چیز آدھی آدھی بانٹ لی: کھیت آدھا آدھا، کھلیان آدھا آدھا، اور ہر فصل کی پیداوار بھی آدھی آدھی۔ گاؤں والے کہتے تھے کہ انصاف میں یہ دونوں بھائی مثال ہیں — نہ کبھی جھگڑا، نہ کبھی ترازو پر بحث۔

سالم شادی شدہ تھا، اس کے چار بچے تھے۔ حامد ابھی اکیلا تھا، اپنی چھوٹی سی جھونپڑی میں رہتا اور اکثر کھانا بڑے بھائی کے گھر کھا لیتا۔ فصل کٹی تو اس برس گندم بہت اچھی ہوئی۔ دونوں کے کھلیان بھر گئے۔ ترازو لگی، بوریاں گنی گئیں، اور ہر ایک کے حصے کی گندم اس کے اپنے گودام میں رکھ دی گئی — برابر، تول کر، انصاف سے۔

اس رات سالم سویا نہیں۔ چاندنی رات میں وہ اپنے گودام کی طرف دیکھتا رہا اور سوچتا رہا: "حامد اکیلا ہے۔ آج اس کے پاس وقت ہے، طاقت ہے، مگر کل جب وہ بوڑھا ہوگا، بیمار ہوگا، تو اس کا سہارا کون ہوگا؟ اس کا حصہ مجھ سے زیادہ ہونا چاہیے تھا۔ باپ کی وصیت انصاف کی تھی، مگر محبت انصاف سے بڑی ہوتی ہے۔" وہ اٹھا، ایک بوری اپنے کندھے پر رکھی، اور خاموشی سے چل کر حامد کے گودام میں ڈال آیا۔ دل میں اس نے کہا: "رب کو گواہ رکھتا ہوں، یہ میرا انصاف نہیں، میری محبت ہے۔"

ادھر اسی رات حامد بھی جاگ رہا تھا۔ وہ سوچ رہا تھا: "بھائی کے چار بچے ہیں، بیوی ہے، مہمان آتے جاتے ہیں۔ اس کے خرچے مجھ سے دگنے ہیں۔ میرا اکیلے کا پیٹ تو آدھی بوری میں بھی بھر جاتا ہے۔ اصل حق دار تو وہ ہے، میں نے آدھا حصہ لے کر بھائی پر ظلم کیا ہے۔" وہ بھی اٹھا، ایک بوری کندھے پر رکھی، اور اسی چاندنی میں چل کر سالم کے گودام میں ڈال آیا۔ اس کے دل میں بھی یہی جملہ تھا: "یہ انصاف نہیں، محبت ہے۔"

صبح دونوں نے اپنے گودام دیکھے اور حیران رہ گئے — بوریاں پوری کی پوری تھیں! سالم نے گنیں: کل جتنی تھیں، آج بھی اتنی۔ حامد نے گنیں: وہی حال۔ دونوں نے دل میں سوچا کہ شاید رات کو غلطی سے بوری ادھر ادھر ہو گئی ہوگی، یا گنتی میں بھول ہوئی ہوگی۔ مگر یہ سلسلہ چلتا رہا۔ ہر رات سالم ایک بوری حامد کے گودام میں رکھ آتا، اور ہر رات حامد ایک بوری سالم کے گودام میں۔ اور ہر صبح دونوں کے گودام بھرے کے بھرے ملتے۔

گاؤں میں بات پھیل گئی۔ لوگ کہنے لگے: "ان بھائیوں کے گودام برکت والے ہیں — ان میں سے نکلتا ہے مگر گھٹتا نہیں۔" ایک مسافر فقیر گاؤں سے گزرا تو اس نے ایک بچے سے پوچھا: "بیٹا، یہ دو گودام کس کس کے ہیں؟" بچے نے کندھے اچکائے: "پتہ نہیں، چچا — یہاں تو دونوں گودام دونوں بھائیوں کے ہیں۔ جو آتا ہے، جس گودام سے چاہتا ہے، بوری اٹھا لیتا ہے۔" فقیر ہنس پڑا اور بولا: "جس جگہ 'میرا' اور 'تیرا' ختم ہو جائے، وہاں گنتی خود ہار مان لیتی ہے۔"

قاضی صاحب نے سنا تو وہ بھی ایک دن دونوں کو بلا کر پوچھنے لگے۔ دونوں بھائی خاموش رہے — ہر ایک سمجھتا تھا کہ راز صرف اس کا ہے، اور نیکی کا راز کھولنا نیکی کو چھوٹا کر دیتا ہے۔ قاضی مسکرائے اور بولے: "برکت ہمیشہ راز میں رہتی ہے، بیٹو۔ جس دن وہ اعلان بن جائے، اس دن وہ سودا بن جاتی ہے۔"

پھر ایک رات آسمان پر پورا چاند تھا اور وادی چاندنی میں نہائی ہوئی تھی۔ دونوں بھائی ایک ہی وقت اپنے اپنے گھر سے نکلے — سالم حامد کے گودام کی طرف، حامد سالم کے گودام کی طرف۔ درمیانی راستے پر، کھیت کے بیچوں بیچ، وہ آمنے سامنے آ گئے — دونوں کے کندھوں پر گندم کی بوریاں، دونوں کی آنکھیں حیرت سے پھٹی ہوئی۔

ایک لمحے کو دونوں ٹھٹھک گئے۔ پھر حامد کی بوری زمین پر گری، سالم کی بوری بھی۔ اور کھیت کے بیچ میں، چاند کی گواہی میں، دونوں بھائی گلے مل کر پہلے ہنسے، پھر رو دیے۔ سالم نے کہا: "تو بھی؟" حامد نے کہا: "آپ بھی؟" اس رات انہیں پتہ چلا کہ ان کے گودام اس لیے نہیں گھٹتے تھے کہ ہر رات ایک بھائی دوسرے کے گودام میں اپنے حصے کی محبت ڈال آتا تھا — اور محبت وہ واحد چیز ہے جو دینے سے گھٹتی نہیں، بڑھتی ہے۔

اس برس گاؤں میں قحط کی آہٹ آئی۔ بارشیں کم ہوئیں، کئی گھروں کے گودام خالی ہونے لگے۔ تب ان دونوں بھائیوں نے اپنے "برکت والے" گوداموں کے دروازے پورے گاؤں کے لیے کھول دیے۔ سالم نے کہا: "جس گودام میں کمی کبھی آئی ہی نہیں، وہ صرف ہمارا کیسے رہ سکتا ہے؟ یہ تو امانت تھی۔" قحط گزر گیا اور گاؤں کا کوئی گھر بھوکا نہیں سویا۔

برسوں بعد جب دونوں بھائی بوڑھے ہو گئے تو ان کے پوتوں نے پوچھا: "دادا، کیا واقعی آپ کے گودام جادوئی تھے؟" سالم نے مسکرا کر کہا: "جادو گودام میں نہیں تھا، بیٹو۔ جادو اس نیت میں تھا جس سے ہم رات کو اٹھتے تھے۔ ترازو انصاف تولتی ہے، مگر گھر محبت سے بھرتا ہے۔ جس دن تم نے اپنے بھائی کے حصے میں اپنے حصے سے بڑھا کر دینا سیکھ لیا، اس دن تمہارے گودام بھی کبھی خالی نہیں ہوں گے۔"

اور لیلیٰ کہتی ہے، دنیا کی سب سے عجیب گنتی محبت کی ہے — اس میں دینے والا بھی امیر ہوتا ہے اور لینے والا بھی، اور حساب کبھی کم نہیں پڑتا۔ 🌙

📌 اخلاقی سبق: انصاف ترازو کا کام ہے، مگر رشتے محبت سے چلتے ہیں۔ جو اپنے حصے میں سے چھپ کر دوسرے کے حصے میں بڑھا دے، اس کے حصے میں کبھی کمی نہیں آتی۔ محبت وہ واحد دولت ہے جو بانٹنے سے بڑھتی ہے اور چھپا کر دینے سے اور بھی قیمتی ہو جاتی ہے۔

اسلامی کہانیاں و پوسٹس

Islamic Stories & Posts

From Illm-o-Noor Studio · علم و نور

سیرت منٹ — غارِ ثور: "غم نہ کرو، اللہ ہمارے ساتھ ہے"

مکہ کی وہ رات تاریخ کی سب سے خاموش اور سب سے بھاری رات تھی۔ قریش کے نوجوان تلواریں لیے گھر کے گرد کھڑے تھے، اور اندر اللہ کے رسول ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اپنے بستر پر سلایا اور اللہ کا نام لے کر باہر نکلے۔ آپ ﷺ سیدھے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے گھر پہنچے — وہ دوست جو اسی رات کے منتظر تھے۔

ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دو اونٹ پہلے سے تیار رکھے تھے اور سامانِ سفر بندھا ہوا تھا۔ ان کی بیٹی حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے دوپٹے کے دو ٹکڑے کر کے کھانے کا سامان باندھا — اسی سے ان کا لقب "ذات النطاقین" پڑا۔ دونوں رات کی تاریکی میں مکہ سے نکلے، مگر مدینہ کی سمت جانے کے بجائے جنوب کی طرف چلے — جبلِ ثور کی طرف — تاکہ تلاش کرنے والے گمراہ ہو جائیں۔

تین دن اور تین راتیں غارِ ثور میں گزریں۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ غار میں پہلے داخل ہوئے، ہر سوراخ اپنے کپڑوں کے ٹکڑوں سے بند کیا، اور ایک سوراخ پر اپنا پاؤں رکھ دیا کہ کوئی موذی چیز اندر نہ آئے۔ رات کو جب رسول اللہ ﷺ ان کے زانو پر سر رکھ کر سو رہے تھے، اسی سوراخ سے کسی چیز نے انہیں ڈس لیا — مگر انہوں نے پاؤں نہ ہٹایا کہ نیند میں خلل نہ پڑے۔ آنسو چہرے پر آ گرا تو آپ ﷺ کی آنکھ کھلی۔

پھر وہ لمحہ آیا جسے قرآن نے ہمیشہ کے لیے محفوظ کر لیا۔ قریش کے کھوجی غار کے دہانے تک پہنچ گئے — اتنے قریب کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سرگوشی میں کہا: "یا رسول اللہ! اگر ان میں سے کوئی اپنے قدموں کی طرف دیکھ لے تو ہمیں دیکھ لے گا۔" جواب آیا — وہ جواب جو ہر مایوس دل کے لیے روشنی ہے: "ابوبکر! تمہارا ان دو کے بارے میں کیا گمان ہے جن کا تیسرا اللہ ہو؟" قرآن نے اسے یوں بیان فرمایا: لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا — "غم نہ کرو، بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔"

غار کے دہانے پر مکڑی کا جالا اور کبوتری کا گھونسلہ دیکھ کر کھوجی کہنے لگے: "یہاں تو برسوں سے کوئی نہیں آیا۔" انسانی تدبیر پوری تھی، مگر اصل حفاظت اس یقین نے کی جو غار کی تاریکی میں چراغ بنا رہا۔

📌 سبق: جب اسباب ختم ہو جائیں تو اللہ کی معیت شروع ہوتی ہے۔ تدبیر کرنا سنت ہے، مگر دل کا ٹھہراؤ صرف اسی یقین سے ملتا ہے کہ ہم اکیلے نہیں ہیں۔

دعائے موسیٰ — سینے کا کھلنا

رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي

اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے، اور میرا کام میرے لیے آسان کر دے۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کے سامنے جانے سے پہلے دولت، لشکر یا طاقت نہیں مانگی — سینے کا کھلنا اور کام کی آسانی مانگی۔ دل کھل جائے تو بڑے سے بڑا دربار بھی چھوٹا لگتا ہے۔

The dua of Musa (AS) before a heavy task — Surah Ta-Ha (20:25–26)

یاد و شکر — وعدۂ یاد

فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُوا لِي وَلَا تَكْفُرُونِ

پس تم مجھے یاد کرو، میں تمہیں یاد کروں گا؛ اور میرے شکر گزار رہو اور ناشکری نہ کرو۔

شکر صرف زبان کا لفظ نہیں؛ شکر یہ ہے کہ نعمت کو پہچانا جائے، اسے وہیں استعمال کیا جائے جہاں دینے والے کی رضا ہو، اور اس پر غرور کے بجائے نرمی پیدا ہو۔

Remember Me — I will remember you. Be grateful to Me — Surah Al-Baqarah (2:152)

Copied ✓