Urdu Ghazals — اردو غزلیں | Raqs-e-Ishq
آج کی غزل
From رقصِ عشق · Raqs-e-Ishq
میرے دل کے حال کی اک دن تجھے خبر ہوگی
مری ہر اک ادا پہ تیری ہی نظر ہوگی
ہم نے کاٹی ہے شبِ ہجر بڑی مشکل سے
زندگی تیرے بغیر اب فقط سفر ہوگی
جس گلی سے کبھی تو گزرتا تھا ہر شام
اسی گلی سے مری بھی کبھی گزر ہوگی
میں نے ہر رات ستاروں سے یہی پوچھا ہے
کب مری قسمتِ خفتہ کی سحر ہوگی
تو جو آئے تو بہار آئے مرے آنگن میں
ورنہ ہر سمت فقط دھوپ کی لہر ہوگی
خاموشی بھی بولتی ہے، بس لہجہ جدا ہوتا ہے
جو سن لے دل سے، اس کے لیے ہر لفظ صدا ہوتا ہے
ہم نے کہا بھی تو کیا، وہ سمجھے بھی تو کیا
محبت میں ہر جواب، سوال سے بڑا ہوتا ہے
آنکھوں نے کہہ دیا جو زباں کہہ نہ سکی برسوں
خاموشی کا ہر لمحہ اک پوری غزل سا ہوتا ہے
بھیڑ میں کھڑے ہیں مگر تنہا ہیں برسوں سے
ہم اپنے ہی سائے سے بھی جدا ہیں برسوں سے
رات آتی ہے تو یادوں کا ہجوم ہوتا ہے
دن کو ہنستے ہیں، رات کو روتا ہے دل چپکے سے
جس کو سمجھا تھا منزل، وہی راستہ نکلا
ہم سفر میں بھی مسافر ہی رہے ہیں برسوں سے
تم گئے تو دل میں بس انتظار رہ جاتا ہے
ہر شام آنکھوں میں چھایا غبار رہ جاتا ہے
زخم بھر جاتے ہیں وقت کے مرہم سے یقیناً
بس اک تیری یادوں کا خمار رہ جاتا ہے
چائے بھی پی لی، کتابیں بھی ادھوری رہ گئیں
ادھوری باتوں کا دل پر سوار رہ جاتا ہے
بچھڑنے والوں کی گنتی میں ہم اکیلے نہیں
مگر اس دل میں تیرا غم ہزار رہ جاتا ہے
نیند آتی ہے تو خوابوں میں چلے آتے ہو تم
آنکھ کھلتی ہے تو دل بے قرار رہ جاتا ہے
خود سے ملنے کی خاطر کبھی بیدار نہ ہوا
خواب پلکوں پہ رہا، خواب کا اظہار نہ ہوا
سب نے پوچھا کہ یہ ویرانی کا عالم کیا ہے
میں نے جب خود کو سنا، شورِ بازار نہ ہوا
زخم کہتا ہے کہ مرہم سے بھی راحت نہ ملی
درد ایسا تھا کہ لفظوں کا گرفتار نہ ہوا
دل نے چاہا کہ تجھے بھول کے جی لے کچھ دن
کیا کرے دل کہ محبت میں یہ ہوشیار نہ ہوا
رات بھر چاند مرے ساتھ رہا چھت پہ مگر
میں اکیلا تھا، کوئی میرا طرف دار نہ ہوا
جاتے جاتے وہ پلٹ کر جو دیکھا ہوتا
ٹوٹا ہوا دل پھر سے نہ ٹوٹا ہوتا
ہم نے ہر وعدے کو سچ مان لیا تھا یونہی
کاش ہر وعدہ محبت کا حوالہ ہوتا
چمن میں پھر اک بار بہار آیا
اس کی گلی کی راہوں میں غبار آیا
پھول کھلے تو ہر کلی نے تیرا نام لیا
میرے حصے میں درد ہو کے ہزار آیا
ساقی نے محفل میں ہر اک کو جام دیا
میرے لبوں تلک آتے آتے خمار آیا
تیرے بغیر ہر موسم بے رنگ گزرا
گل جو کھلا تو ترا فراق آشکار آیا
وعدہ تیرا ہر برس ادھورا رہ گیا
موسمِ گل ہر برس بے شمار آیا
برسوں بھٹکتا رہا میں، ترے نام لوٹ آیا
دل کی ویران فضا میں ترا پیغام لوٹ آیا
خاموشیوں نے چھین لیے تھے سبھی سوال
لب پر ترے ذکر سے پھر اک کلام لوٹ آیا
جو کچھ کمایا تھا غربت میں، سب لٹا آیا ہوں
خالی ہاتھ سہی، دل مگر تمام لوٹ آیا
سر جھکائے جو چلا تھا میں کبھی اس شہر سے
آج اسی در پہ مرا احترام لوٹ آیا
تھک گیا تھا مسافت سے دل کا مسافر
تیری گلی میں آ کر اسے آرام لوٹ آیا
Share this ghazal — غزل آگے بھیجیں