خود سے ملاقات
Urdu Ghazal · Raqs-e-Ishq
Kalamnama · کلام نامہ
خود سے ملاقات
خود سے ملنے کی خاطر کبھی بیدار نہ ہوا
خواب پلکوں پہ رہا، خواب کا اظہار نہ ہوا
سب نے پوچھا کہ یہ ویرانی کا عالم کیا ہے
میں نے جب خود کو سنا، شورِ بازار نہ ہوا
زخم کہتا ہے کہ مرہم سے بھی راحت نہ ملی
درد ایسا تھا کہ لفظوں کا گرفتار نہ ہوا
دل نے چاہا کہ تجھے بھول کے جی لے کچھ دن
کیا کرے دل کہ محبت میں یہ ہوشیار نہ ہوا
رات بھر چاند مرے ساتھ رہا چھت پہ مگر
میں اکیلا تھا، کوئی میرا طرف دار نہ ہوا
Share · آگے بھیجیں
