سحر ہوگی
Urdu Ghazal · Raqs-e-Ishq
Kalamnama · کلام نامہ
سحر ہوگی
میرے دل کے حال کی اک دن تجھے خبر ہوگی
مری ہر اک ادا پہ تیری ہی نظر ہوگی
ہم نے کاٹی ہے شبِ ہجر بڑی مشکل سے
زندگی تیرے بغیر اب فقط سفر ہوگی
جس گلی سے کبھی تو گزرتا تھا ہر شام
اسی گلی سے مری بھی کبھی گزر ہوگی
میں نے ہر رات ستاروں سے یہی پوچھا ہے
کب مری قسمتِ خفتہ کی سحر ہوگی
تو جو آئے تو بہار آئے مرے آنگن میں
ورنہ ہر سمت فقط دھوپ کی لہر ہوگی
Share · آگے بھیجیں
