دل کو چھو لینے والی باتیں — شاعری، اقوال اور کہانیاں
Dil ko chhoone wali baatein — shayari, quotes aur kahaniyan, from the heart, every day.

Follow on Facebook

سیرت منٹ — غارِ ثور: "غم نہ کرو، اللہ ہمارے ساتھ ہے"

Islamic Post · Illm-o-Noor Studio

Kalamnama · کلام نامہ

سیرت منٹ — غارِ ثور: "غم نہ کرو، اللہ ہمارے ساتھ ہے"

مکہ کی وہ رات تاریخ کی سب سے خاموش اور سب سے بھاری رات تھی۔ قریش کے نوجوان تلواریں لیے گھر کے گرد کھڑے تھے، اور اندر اللہ کے رسول ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اپنے بستر پر سلایا اور اللہ کا نام لے کر باہر نکلے۔ آپ ﷺ سیدھے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے گھر پہنچے — وہ دوست جو اسی رات کے منتظر تھے۔

ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دو اونٹ پہلے سے تیار رکھے تھے اور سامانِ سفر بندھا ہوا تھا۔ ان کی بیٹی حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے دوپٹے کے دو ٹکڑے کر کے کھانے کا سامان باندھا — اسی سے ان کا لقب "ذات النطاقین" پڑا۔ دونوں رات کی تاریکی میں مکہ سے نکلے، مگر مدینہ کی سمت جانے کے بجائے جنوب کی طرف چلے — جبلِ ثور کی طرف — تاکہ تلاش کرنے والے گمراہ ہو جائیں۔

تین دن اور تین راتیں غارِ ثور میں گزریں۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ غار میں پہلے داخل ہوئے، ہر سوراخ اپنے کپڑوں کے ٹکڑوں سے بند کیا، اور ایک سوراخ پر اپنا پاؤں رکھ دیا کہ کوئی موذی چیز اندر نہ آئے۔ رات کو جب رسول اللہ ﷺ ان کے زانو پر سر رکھ کر سو رہے تھے، اسی سوراخ سے کسی چیز نے انہیں ڈس لیا — مگر انہوں نے پاؤں نہ ہٹایا کہ نیند میں خلل نہ پڑے۔ آنسو چہرے پر آ گرا تو آپ ﷺ کی آنکھ کھلی۔

پھر وہ لمحہ آیا جسے قرآن نے ہمیشہ کے لیے محفوظ کر لیا۔ قریش کے کھوجی غار کے دہانے تک پہنچ گئے — اتنے قریب کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سرگوشی میں کہا: "یا رسول اللہ! اگر ان میں سے کوئی اپنے قدموں کی طرف دیکھ لے تو ہمیں دیکھ لے گا۔" جواب آیا — وہ جواب جو ہر مایوس دل کے لیے روشنی ہے: "ابوبکر! تمہارا ان دو کے بارے میں کیا گمان ہے جن کا تیسرا اللہ ہو؟" قرآن نے اسے یوں بیان فرمایا: لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا — "غم نہ کرو، بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔"

غار کے دہانے پر مکڑی کا جالا اور کبوتری کا گھونسلہ دیکھ کر کھوجی کہنے لگے: "یہاں تو برسوں سے کوئی نہیں آیا۔" انسانی تدبیر پوری تھی، مگر اصل حفاظت اس یقین نے کی جو غار کی تاریکی میں چراغ بنا رہا۔

📌 سبق: جب اسباب ختم ہو جائیں تو اللہ کی معیت شروع ہوتی ہے۔ تدبیر کرنا سنت ہے، مگر دل کا ٹھہراؤ صرف اسی یقین سے ملتا ہے کہ ہم اکیلے نہیں ہیں۔

← Previous · پچھلاNext · اگلا →
← All Islamic Posts · تمام پوسٹس
Copied ✓