دل کو چھو لینے والی باتیں — شاعری، اقوال اور کہانیاں
Dil ko chhoone wali baatein — shayari, quotes aur kahaniyan, from the heart, every day.

Follow on Facebook

پیتل کا شہر

Urdu Kahani · LaylaTales

Kalamnama · کلام نامہ

پیتل کا شہر

کہتے ہیں کہ ایک زمانے میں ایک نوجوان سوداگر تھا، جس کا نام یوسف تھا۔ یوسف کے والد نے مرنے سے پہلے اسے دو نصیحتیں کی تھیں: ایک یہ کہ صحرا کا سفر کبھی اکیلے نہ کرنا، اور دوسری یہ کہ راستے میں جو شہر خاموش ملے، اس میں رات نہ گزارنا۔ یوسف نے دونوں نصیحتیں دل پر لکھ لیں، مگر جوانی کا جوش اکثر بڑوں کی باتوں کو پرانی کہانی سمجھ کر ہنس دیتا ہے۔

ایک برس یوسف ایک قافلے کے ساتھ سمندر کی طرف روانہ ہوا۔ قافلے میں چالیس اونٹ تھے، اور ان پر ریشم، مصالحے اور خشک میوے لدے ہوئے تھے۔ راستے میں اس کے ساتھ ایک اور سوداگر بھی تھا، حاتم نام کا، جو ہر بات میں کہتا تھا: "دنیا میں دولت ہی سب کچھ ہے، جس کے پاس سونا ہو، اسی کے پاس عزت ہوتی ہے۔" یوسف کہتا: "عزت سونے سے نہیں، سچائی سے ملتی ہے۔" اور قافلہ ہنستے بولتے اپنا سفر جاری رکھتا۔

تیسرے دن صحرا میں ایسی آندھی اٹھی کہ آسمان مٹی سے بھر گیا۔ دن رات میں بدل گیا، اونٹ بدک گئے، اور جب ہوائیں تھمیں تو قافلہ بکھر چکا تھا۔ یوسف اور حاتم ایک دوسرے کو مل تو گئے، مگر باقی قافلہ، پانی اور سامان سب کہیں کھو گیا تھا۔ سورج سر پر آگ برسا رہا تھا اور گلے میں پیاس کے کانٹے چبھ رہے تھے۔

چلتے چلتے اچانک ریت کے ٹیلوں کے پیچھے انہیں ایک عظیم دیوار نظر آئی، جو سورج کی روشنی میں سونے کی طرح چمک رہی تھی۔ قریب جا کر دیکھا تو دیوار پیتل کی تھی — پوری کی پوری پیتل کی! شہر کے دروازے پر ایک پرانی تختی لگی تھی، جس پر لکھا تھا: "اے مسافر! یہ شہر کبھی آباد تھا۔ یہاں کے لوگ دولت میں اندھے ہو گئے تھے، پانی کی قدر بھول گئے تھے، اور مہمان کو حقیر سمجھتے تھے۔ پھر ایک دن خاموشی آئی اور سب کچھ ٹھہر گیا۔ جو یہاں آئے، وہ سبق لے کر جائے، لوٹ کر نہیں۔"

حاتم نے تختی پڑھی مگر اس کی نظر دروازے کے اوپر لگی ہوئی ایک بہت بڑی پیتل کی گھنٹی پر ٹکی رہی، جس میں جواہرات جڑے ہوئے تھے۔ اس کی آنکھیں چمک اٹھیں: "یوسف! صرف یہ گھنٹی اتار لیں تو ہم ساری عمر کے لیے امیر ہو جائیں گے۔" یوسف نے کہا: "وہ تختی دیکھو، یہ تحفہ نہیں، تنبیہ ہے۔ پہلے پانی تلاش کرو، زندگی رہے گی تو دولت بھی مل جائے گی۔"

شہر کے اندر کا منظر عجیب تھا۔ بازار سجے ہوئے تھے، دکانوں میں ریشم کے تھان اور برتن موجود تھے، مگر کوئی انسان نہ تھا۔ مکانوں کے دروازے کھلے تھے، دسترخوان بچھے تھے، مگر ہر جگہ ایک ایسی خاموشی تھی کہ اپنے قدموں کی آواز بھی ڈراؤنی لگتی تھی۔ ایک بڑے محل کے صحن میں ایک حوض تھا، اور اس میں ٹھنڈا، شفاف پانی بھرا ہوا تھا۔

یوسف نے پہلے اللہ کا شکر ادا کیا، پھر پانی پیا اور اپنے مشکیزے بھرے۔ اس نے حوض کے کنارے بیٹھ کر سوچا کہ یہ لوگ کتنے خوش نصیب تھے — پانی، دولت، محل، سب کچھ تھا — مگر قدر نہ کی، تو سب کچھ ہوتے ہوئے بھی شہر اجڑ گیا۔ قدر نہ کرنے والا، خزانے کے درمیان بھی فقیر رہتا ہے۔

ادھر حاتم کا صبر جواب دے چکا تھا۔ وہ واپس دروازے پر گیا اور گھنٹی اتارنے کے لیے دیوار پر چڑھ گیا۔ جیسے ہی اس نے گھنٹی کو چھوا، ایک زور دار آواز گونجی اور شہر کے سارے دروازے خود بخود بند ہونے لگے۔ زمین ہلنے لگی۔ یوسف نے دوڑ کر حاتم کو نیچے کھینچا اور اسے لے کر کھلے ہوئے ایک چھوٹے دروازے سے باہر نکل آیا۔ ان کے نکلتے ہی بڑا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا، اور شہر پھر اسی خاموشی میں ڈوب گیا۔

حاتم کانپ رہا تھا۔ اس نے کہا: "یوسف، تم نے ٹھیک کہا تھا۔ میں گھنٹی کے پیچھے اپنی جان گنوانے لگا تھا۔ آج سمجھا کہ دولت وہ نہیں جو چھین لی جائے، دولت وہ ہے جو نصیب سے ملے اور شکر سے سنبھلے۔" یوسف نے مسکرا کر کہا: "اور پانی کی قیمت آج ہم دونوں کو صحرا نے سکھا دی ہے۔"

کئی دن کی مشقت کے بعد دونوں ایک سرائے تک پہنچ گئے۔ وہاں سے وہ اپنے شہروں کو لوٹ گئے۔ حاتم نے واپس جا کر اپنے کاروبار کا انداز بدل لیا — وہ مہمان نوازی میں مشہور ہو گیا اور اپنے گاؤں میں ایک سرائے اور ایک کنواں بنوایا، جس پر اس نے لکھوایا: "پانی انمول ہے، مہمان رحمت ہے۔" اور یوسف اپنے والد کی نصیحت ہر مسافر کو سناتا تھا: "خاموش شہر میں رات نہ گزارنا، اور ہر نعمت کی قدر کرنا، کیونکہ نعمتیں قدر کرنے والوں کے پاس ٹھہرتی ہیں۔"

راستے میں ایک رات دونوں ایک پرانے درخت کے نیچے رکے۔ حاتم نے آگ جلائی اور دیر تک خاموش بیٹھا رہا، پھر بولا: "یوسف، ایک بات مجھے اندر سے کھا رہی ہے۔ میں تمہیں برسوں سے کمتر سمجھتا رہا، کیونکہ تم آہستہ چلتے تھے، سوچ کر بولتے تھے، اور ہر چیز میں سبق ڈھونڈتے تھے۔ میں سمجھتا تھا کہ تیز آدمی جیتتا ہے۔ آج صحرا نے بتا دیا کہ تیز آدمی سب سے پہلے بھٹکتا بھی ہے۔"

یوسف نے آگ میں ایک لکڑی ڈالی اور کہا: "حاتم، انسان دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو ہر چیز کو قیمت سے تولتا ہے، اور دوسرا وہ جو قدر سے تولتا ہے۔ پیتل کے شہر والوں کے پاس قیمتیں بہت تھیں، قدر کوئی نہیں تھی — اس لیے شہر چمکتا ہوا بھی اجڑ گیا۔ ہمارے پاس راستے میں صرف دو مشکیزے پانی تھا، مگر اس کی قدر تھی، اس لیے ہم بچ گئے۔"

اس رات حاتم نے پہلی بار اپنے کھانے میں سے آدھا حصہ ایک اجنبی فقیر کو دیا جو اسی درخت کے نیچے سو رہا تھا۔ فقیر نے دعا دی: "بیٹا، جس دن دینے کا مزہ چکھ لیا، اس دن لینے کی بھوک خود مر جاتی ہے۔" حاتم کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ صحرا کا سفر ختم ہونے کو تھا، مگر حاتم کے اندر کا سفر اسی رات سے شروع ہوا تھا۔

اور لیلیٰ کہتی ہے، پیتل کے شہر کی دیواریں آج بھی صحرا میں چمکتی ہوں گی، مگر ان سے زیادہ روشن وہ دل ہے جو سبق سیکھ لے۔ 🌙

📌 اخلاقی سبق: نعمت کی قدر نہ کرنے والا خزانے کے بیچ میں بھی محروم رہتا ہے۔ لالچ انسان کو اندھا کر دیتا ہے، اور شکر اس کی آنکھیں کھول دیتا ہے۔ سبق لینے والا کبھی خالی ہاتھ نہیں لوٹتا۔

Share · آگے بھیجیں

Next · اگلا →
← All Kahaniyan · تمام کہانیاں
Copied ✓