خیال برسات میں
Urdu Ghazal · Raqs-e-Ishq
Kalamnama · کلام نامہ
خیال برسات میں
ترے آنے کی کوئی نہیں مثال برسات میں
پھر بھی دل کو ہے ترا ہی خیال برسات میں
بھیگتی گلیوں میں چلتا ہوں ترے نقشِ قدم پر
شاید مل جائے کہیں ترا وصال برسات میں
یہ بوندیں پرانے زخموں کو ہرا کر دیتی ہیں
دل کے اندر چھپا بیٹھا ہے ملال برسات میں
نہ خط آیا، نہ بادل کوئی پیغام لایا
لبوں پر رہ گیا اک ہی سوال برسات میں
چھت کی ٹپکتی بوند نے رات بھر جگایا
نیند کیا آتی، جب ہو یہی احوال برسات میں
میں نے پوچھا جو بادل سے ترا حال کبھی
اس نے رو کر سنا دیا مرا حال برسات میں
Share · آگے بھیجیں
