پرانا دوست
Urdu Ghazal · Raqs-e-Ishq
Kalamnama · کلام نامہ
پرانا دوست
وقت کے ساتھ نہ بدلا وہ پرانا دوست
آج بھی دل کے قریب ہے وہ یارانہ دوست
محفلِ غیر میں بھی جس نے مرا ساتھ دیا
ایسا ہوتا ہے کوئی ایک ہی دیوانہ دوست
نہ کوئی غرض کی گانٹھ، نہ حساب کا پابند
مرا دوست ہے بس یونہی سا مستانہ دوست
کڑی دھوپ میں جلتے ہوئے جب تھک گیا میں
سایا بن کے ملا مجھ کو فقیرانہ دوست
لوگ کہتے ہیں کہ دولت سے بنتے ہیں رشتے
میں نے دیکھا ہے غریبی میں شاہانہ دوست
عمر بھر کی مسافت میں یہی ساتھ رہا
مرے ہر دکھ کا ساتھی، مرا عاشقانہ دوست
Share · آگے بھیجیں
