لوٹ آیا
Urdu Ghazal · Raqs-e-Ishq
Kalamnama · کلام نامہ
لوٹ آیا
برسوں بھٹکتا رہا میں، ترے نام لوٹ آیا
دل کی ویران فضا میں ترا پیغام لوٹ آیا
خاموشیوں نے چھین لیے تھے سبھی سوال
لب پر ترے ذکر سے پھر اک کلام لوٹ آیا
جو کچھ کمایا تھا غربت میں، سب لٹا آیا ہوں
خالی ہاتھ سہی، دل مگر تمام لوٹ آیا
سر جھکائے جو چلا تھا میں کبھی اس شہر سے
آج اسی در پہ مرا احترام لوٹ آیا
تھک گیا تھا مسافت سے دل کا مسافر
تیری گلی میں آ کر اسے آرام لوٹ آیا
Share · آگے بھیجیں
