انتظار باقی ہے
Urdu Ghazal · Raqs-e-Ishq
Kalamnama · کلام نامہ
انتظار باقی ہے
تیری گلی کی طرف اک دیار باقی ہے
مری نگاہ میں تیرا انتظار باقی ہے
چمن میں رنگ ہے، خوشبو ہے، بہار باقی ہے
مرے لیے تو فقط راہ کا غبار باقی ہے
نہ خط ملا، نہ کوئی نامہ بر زبانی خبر
فقط دل میں تری یادوں کا شمار باقی ہے
سفر تمام ہوا، پھر بھی دل کو چین نہیں
تھکے قدموں میں اب تک وہی رفتار باقی ہے
چراغ بجھ بھی گیا رات کے اندھیرے میں
مگر نگاہ میں اب تک کوئی شرار باقی ہے
دعا کے ہاتھ اٹھے ہیں قضا کے در پر مگر
خدا کے فضل سے امیدِ پیار باقی ہے
Share · آگے بھیجیں
