شام اس شہر میں
Urdu Ghazal · Raqs-e-Ishq
Kalamnama · کلام نامہ
شام اس شہر میں
ہر اک چراغ جلا ہے مگر ہے شام اس شہر میں
مرے لیے نہ کوئی در ہے، نہ کوئی بام اس شہر میں
گلی گلی میں ہے رونق، ہر اک طرف ہے ہجوم
تلاش پھر بھی ہے مجھ کو مرا ہی نام اس شہر میں
یہ بستیاں، یہ عمارتیں، یہ روشنی کا سمندر
دلوں کے اندر اترتا ہے کیوں ظلام اس شہر میں
خریدنے کو تو بازار میں ہر اک شے ہے
محبتوں کا مگر کوئی نہیں دام اس شہر میں
میں تھک کے بیٹھ گیا اک پرانی چائے کی دکان پر
ملا جو خود سے تو پایا ذرا آرام اس شہر میں
صبح کی پہلی کرن نے دھند کو چیر دیا
اک نیا دن ہے، نیا اک اہتمام اس شہر میں
Share · آگے بھیجیں
