سیرتِ طیبہ — ہجرت کی رات (پہلی قسط)
مکہ مکرمہ کی فضا میں اس روز عجیب سی بے چینی تھی۔ تیرہ برس گزر چکے تھے کہ محمد ﷺ اپنے شہر کو ایک اللہ کی عبادت کی طرف بلا رہے تھے۔ قریش کے سرداروں نے ظلم کی ہر حد پار کر لی تھی، مگر دعوت کا چراغ بجھنے کے بجائے اور روشن ہوتا جا رہا تھا۔ یثرب کے لوگ بیعت کر چکے تھے اور مدینہ کی گلیاں مہاجرین کی منتظر تھیں۔ اب مکہ میں فیصلے کی گھڑی آن پہنچی تھی۔
اسی دن دوپہر کے وقت، جب گلیاں سنسان تھیں، آپ ﷺ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لے گئے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے کہ یہ وقت آپ ﷺ کے معمول کے آنے کا نہ تھا۔ آپ ﷺ نے تنہائی میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہجرت کی اجازت مرحمت فرما دی ہے۔ حضرت ابوبکرؓ نے ساتھ چلنے کی سعادت مانگی؛ اجازت ملی تو فرطِ مسرت سے ان کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں۔ انہوں نے اسی دن کی تیاری میں دو اونٹنیاں پہلے سے خرید کر خاص دانہ پانی دے کر تیار رکھی تھیں۔
ادھر اسی شام دارالندوہ میں قریش کے سردار سر جوڑ کر بیٹھے تھے۔ تجویزیں کئی آئیں: قید کر دیا جائے، جلا وطن کر دیا جائے۔ مگر آخر میں فیصلہ اسی خونیں منصوبے پر ہوا کہ ہر قبیلے سے ایک زور آور نوجوان لیا جائے، سب ایک ساتھ وار کریں، تاکہ خون کا بہا بنو ہاشم کے لیے سب قبیلوں سے جھگڑا بن جائے اور وہ بدلہ لینے کے بجائے دیت پر راضی ہو جائیں۔ چنانچہ منتخب نوجوان رات گئے آپ ﷺ کے دروازے پر آ کھڑے ہوئے۔
مگر جس گھر کے دروازے پر موت پہرہ دے رہی تھی، وہاں آسمان کا پیغام پہلے پہنچ چکا تھا۔ حضرت جبریل علیہ السلام وحی لے کر حاضر ہوئے، دشمن کے منصوبے کی خبر دی اور ہجرت کا حکم سنایا، ساتھ یہ تاکید فرمائی کہ آج رات آپ ﷺ اپنے بستر پر استراحت نہ فرمائیں۔ اللہ کا فیصلہ ہو چکا تھا: قافلۂ حق نے مدینہ کی طرف نکلنا تھا۔
درحقیقت یہ رات یکایک نہیں آئی تھی۔ گزشتہ ہفتوں سے مسلمان ایک ایک کر کے خاموشی سے مدینہ روانہ ہو رہے تھے۔ مکہ میں اب پیچھے رہ گئے تھے تو بس آپ ﷺ، حضرت ابوبکرؓ جنہیں خود آپ ﷺ نے روک رکھا تھا، حضرت علیؓ، اور کچھ بے بس و مظلوم مومن جن کے لیے نکلنا ممکن نہ تھا۔
اس ہنگامی رات میں بھی ایک ذمہ داری ایسی تھی جو آپ ﷺ نظر انداز نہیں فرما سکتے تھے: امانتیں۔ یہ کیسا شہر تھا کہ جن لوگوں نے آپ ﷺ کو جھٹلایا اور ستایا، وہی اپنا قیمتی مال اور زیورات آپ ہی کے پاس امانت رکھتے تھے، کیونکہ پورا مکہ آپ کو "امین" کہتا تھا۔ نکلنے سے پہلے آپ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بلا کر وہ تمام امانتیں ان کے سپرد کیں اور تاکید فرمائی کہ وہ مکہ میں ٹھہر کر ایک ایک امانت اس کے مالک تک پہنچا کر ہی مدینہ آئیں۔ دشمنی اپنی جگہ، امانت کا حق اپنی جگہ — یہ تھا اس کردار کا اعجاز۔
پھر آپ ﷺ نے حضرت علیؓ کو اپنی سبز حضرمی چادر اوڑھ کر اپنے بستر پر لیٹ جانے کا حکم دیا۔ حضرت علیؓ نے بے خوف و خطر وہ حکم بجا لایا، حالانکہ جانتے تھے کہ قاتلوں کی نگاہیں اسی بستر پر جمی ہیں۔ باہر کھڑے نوجوان وقفے وقفے سے جھانک کر دیکھتے؛ چادر میں لپٹی ہوئی شخصیت نظر آتی تو مطمئن ہو جاتے کہ سوئے ہوئے محمد ﷺ ہی ہیں۔ رات ڈھلتی رہی اور پہرے دار اپنے شکار کی موجودگی کے وہم میں غافل ہوتے گئے۔
پھر وہ لمحہ آیا۔ آپ ﷺ اپنے گھر سے باہر تشریف لائے۔ قاتل نوجوان دروازے ہی پر موجود تھے، مگر روایت میں آتا ہے کہ آپ ﷺ نے مٹھی بھر مٹی ان کی طرف اچھال دی اور اللہ نے ان کی نگاہیں آپ ﷺ سے پھیر دیں؛ آپ ﷺ ان کے بیچوں بیچ سے گزرتے چلے گئے اور کسی کو خبر تک نہ ہوئی۔
چلتے چلتے حزورہ کے قریب سے گزر ہوا تو آپ ﷺ لمحہ بھر کو ٹھہرے۔ سامنے کعبۃ اللہ تھا — وہی گھر جس کی طرف منہ کر کے برسوں نماز پڑھی گئی تھی، وہی گلیاں جن میں بچپن اور جوانی گزری تھی۔ روایت میں آتا ہے کہ اس وداعی نظر میں مکہ سے ایسی محبت جھلکتی تھی کہ گویا دل کہہ رہا ہو: اے مکہ! تو اللہ کی زمین میں سب سے محبوب ہے؛ اگر تیرے باسی مجھے نکلنے پر مجبور نہ کرتے تو میں تجھے چھوڑ کر کبھی نہ جاتا۔ پھر آپ ﷺ نے رخ پھیرا اور قدم بڑھا دیے۔
آپ ﷺ سیدھے حضرت ابوبکرؓ کے گھر پہنچے۔ وہ منتظر تھے۔ گھر کے عقبی دروازے سے دونوں بزرگ رات کے اندھیرے میں باہر نکل آئے۔ سمت عجیب تھی: مدینہ شمال میں تھا، مگر قدم جنوب کی طرف اٹھ رہے تھے، جہاں کوہِ ثور کی خاموش چٹانیں کھڑی تھیں۔ آگے بے آب و گیاہ صحرا تھا، سر پر تاروں بھرا آسمان، اور پیچھے دشمن کا شہر، جو صبح ہوتے ہی تعاقب میں نکل کھڑا ہونا تھا۔ حضرت ابوبکرؓ کے چہرے پر نہ خوف تھا نہ تردد — بس اپنے محبوب رفیق کے ساتھ ہونے کی دولت تھی۔ قافلۂ ہجرت خاموشی سے اندھیرے میں اتر گیا۔ صبح مکہ میں کیا ہنگامہ ہوگا؟ اور تعاقب کس موڑ پر قریب آ جائے گا؟
باقی کل…
