اخلاص — چھپی ہوئی طاقت
وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ
اور انہیں اس کے سوا حکم نہیں دیا گیا کہ اللہ کی عبادت کریں، دین کو اسی کے لیے خالص رکھ کر۔
اور انہیں اس کے سوا حکم نہیں دیا گیا کہ اللہ کی عبادت کریں، دین کو اسی کے لیے خالص رکھ کر۔
اخلاص کا مطلب ہے: کام اللہ کے لیے ہو، لوگوں کی نظر کے لیے نہیں۔ یہ وہ چھپی ہوئی طاقت ہے جو بڑے سے بڑے عمل کو وزن دیتی ہے اور اس کے بغیر بڑا عمل بھی اندر سے خالی رہ جاتا ہے۔
دنیا میں دو شخص ایک ہی کام کرتے ہیں؛ ایک کو اس پر اطمینان ملتا ہے اور دوسرے کو تھکن، دکھاوا اور حسرت۔ فرق اکثر کام میں نہیں ہوتا، نیت میں ہوتا ہے۔ نیت وہ جڑ ہے جو نظر نہیں آتی، مگر پھل اسی سے پہچانا جاتا ہے۔
اخلاص کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ یہ انسان کو لوگوں کی تعریف و ملامت کی غلامی سے آزاد کر دیتا ہے۔ جس کا مقصد صرف ایک ہو، اسے ہر موڑ پر خود کو بدلنا نہیں پڑتا۔
آج اپنے کسی ایک چھوٹے سے اچھے کام کو صرف اللہ کے لیے کر کے دیکھیے — بغیر بتائے، بغیر جتائے۔ دل میں جو سکون اترے گا، وہی اخلاص کی پہلی جھلک ہے۔
Worship Allah, sincere to Him in religion — Surah Al-Bayyinah (98:5)