سیرت منٹ — غارِ حرا: پہلی وحی
مکہ کی وادی میں ایک غار تھا — غارِ حرا۔ رسول اللہ ﷺ اکثر وہاں تنہائی میں عبادت اور غور و فکر کے لیے تشریف لے جاتے۔ چالیس برس کی عمر میں ایک رات وہی پیش آیا جس نے انسانیت کی تاریخ بدل دی۔
فرشتہ آیا اور کہا: پڑھیے! آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں پڑھنا نہیں جانتا۔ یہ کیفیت تین بار پیش آئی، پھر وہ آیات نازل ہوئیں جن سے قرآن کا آغاز ہوا: ”اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ“ — پڑھیے اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔
آپ ﷺ گھر لوٹے تو دل کی دھڑکن تیز تھی۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: مجھے اوڑھا دو، مجھے اوڑھا دو۔ پھر سارا واقعہ سنایا اور فرمایا کہ مجھے اپنی جان کا اندیشہ ہوا۔ یہ سن کر ام المؤمنین نے وہ جملے کہے جو ہر گھبرائے ہوئے دل کے لیے آج بھی مرہم ہیں: ہرگز نہیں! اللہ کی قسم، اللہ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا، کیونکہ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، کمزور کا بوجھ اٹھاتے ہیں، محتاج کو کما کر دیتے ہیں، مہمان کی عزت کرتے ہیں اور مصیبت میں حق کا ساتھ دیتے ہیں۔
پھر وہ آپ ﷺ کو اپنے چچا زاد ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں، جو پچھلی کتابوں کے عالم تھے۔ ساری بات سن کر ورقہ نے کہا: یہ وہی ناموس (فرشتہ) ہے جو موسیٰ علیہ السلام پر اترا تھا۔
یہ واقعہ ہمیں دو باتیں سکھاتا ہے۔ ایک یہ کہ علم کی ابتدا ”پڑھنے“ سے ہوئی — اس دین کی پہلی آواز ہی قلم اور کتاب کی عزت تھی۔ دوسری یہ کہ بڑے لمحات میں انسان کو سب سے پہلے ایک ایسے ساتھی کی ضرورت ہوتی ہے جو اس کے کردار پر خود اس سے زیادہ یقین رکھتا ہو — خدیجہ رضی اللہ عنہا کا یقین اس رات امت کی پہلی طاقت تھا۔
📌 سبق: مشکل اور عجیب لمحوں میں گھبرانا انسانیت ہے؛ اصل کمال یہ ہے کہ انسان سچ کا دامن نہ چھوڑے اور اپنے کردار کو ایسا بنائے کہ مشکل وقت میں بھی اس کے قریبی لوگ اس پر یقین کر سکیں۔