مشکل کے ساتھ آسانی — وعدۂ الٰہی
فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرَىٰ
پس بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔
پس بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔
غور کیجیے — آیت یہ نہیں کہتی کہ مشکل کے بعد آسانی ہے؛ کہتی ہے مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ یعنی جس گھڑی میں آپ تنگی میں کھڑے ہیں، اسی گھڑی میں کہیں نہ کہیں آسانی کا در بھی موجود ہے؛ بس نظر اس وقت اندھیرے میں اٹکی ہوتی ہے۔
اس آیت کی تکرار بھی ایک پیغام ہے۔ ایک بار کہنا خبر تھی، دوبارہ کہنا یقین ہے۔ گویا اللہ اپنے بندے کے دل کو تھپکی دے کر فرما رہا ہے: میری بات پر بھروسا رکھ، تنگی آخری لفظ نہیں۔
رات کتنی ہی لمبی ہو، وہ اپنے اندر صبح کا وعدہ لیے ہوتی ہے۔ جو شخص اس وعدے پر کھڑا رہتا ہے، مشکل اسے توڑنے کے بجائے تراش دیتی ہے — اور تراشا ہوا ہیرا ہی قیمت پاتا ہے۔
Indeed, with hardship comes ease — Surah Ash-Sharh (94:5–6)