دل کو چھو لینے والی باتیں — شاعری، اقوال اور کہانیاں
Dil ko chhoone wali baatein — shayari, quotes aur kahaniyan, from the heart, every day.

Follow on Facebook

آبنوس کا گھوڑا

Urdu Kahani · LaylaTales

Kalamnama · کلام نامہ

آبنوس کا گھوڑا

کہتے ہیں کہ فارس کے ایک بادشاہ کے دربار میں ایک ہنرمند کاریگر آیا، جس نے آبنوس کی سیاہ لکڑی سے ایک ایسا گھوڑا بنایا تھا جو زمین پر نہیں، ہوا میں اڑتا تھا۔ گھوڑے کی گردن میں ایک کل تھی، اسے ایک طرف گھماؤ تو گھوڑا آسمان کی طرف اٹھتا، دوسری طرف گھماؤ تو نیچے اترتا، اور لگام جس سمت موڑو، گھوڑا اسی سمت پرواز کرتا تھا۔ بادشاہ اس کرشمے پر حیران رہ گیا۔

بادشاہ کا چھوٹا بیٹا، شہزادہ بہرام، جوان تھا، بہادر تھا، مگر جلدباز بہت تھا۔ وہ اسی وقت گھوڑے پر بیٹھ گیا، کل گھما دی، اور اس سے پہلے کہ کوئی کچھ کہہ سکے، گھوڑا اسے لے کر بادلوں میں غائب ہو گیا۔ دربار میں کہرام مچ گیا۔ بادشاہ نے کاریگر کو قید کرنے کا حکم دے دیا کہ جب تک شہزادہ واپس نہ آئے، تم قید رہو گے۔

ادھر شہزادہ بہرام آسمان میں اڑ رہا تھا۔ نیچے دریا ریشم کے دھاگے لگتے تھے، پہاڑ چھوٹے چھوٹے ٹیلے، اور شہر کھلونوں جیسے دکھائی دیتے تھے۔ مگر جلد ہی شہزادے کو احساس ہوا کہ اس نے تو واپس اترنے کا طریقہ ہی نہیں سیکھا! اس نے کل کو ادھر ادھر گھمایا، گھوڑا کبھی اور اوپر گیا، کبھی دائیں مڑا، کبھی بائیں، مگر نیچے اترنے کا راز اسے نہ ملا۔ سورج ڈھلنے لگا اور شہزادے کے دل میں پہلی بار خوف اترا۔

بہرام نے اپنے آپ سے کہا: "طاقت میرے پاس اتنی کہ اڑ سکوں، مگر عقل اتنی نہیں کہ رک سکوں۔ یہی جلدبازی کا انجام ہوتا ہے۔" اس نے غصے کے بجائے سکون سے گھوڑے کو دیکھنا شروع کیا۔ گردن کی کل کے پاس ایک چھوٹی سی دوسری کل بھی تھی، جو اس نے پہلے غور ہی نہیں کی تھی۔ اس نے دل تھام کر اسے آہستہ سے گھمایا — اور گھوڑا دھیرے دھیرے نیچے اترنے لگا!

گھوڑا ایک اجنبی سرزمین کے قریب ایک باغ میں اترا۔ رات ہو چکی تھی۔ باغ کے رکھوالے نے شہزادے کو مہمان سمجھ کر کھانا کھلایا اور بتایا کہ یہ شہر ایک ظالم حاکم کے زیرِ سایہ ہے، جو ہر نئی چیز لالچ سے چھین لیتا ہے۔ اگلی صبح حاکم کے سپاہی گھوڑے کی خبر سن کر آ پہنچے۔ شہزادہ پھر گھوڑے پر بیٹھا، کل گھمائی اور آسمان میں بلند ہو گیا۔ حاکم منہ دیکھتا رہ گیا — جو چیز چھیننے سے ملتی ہے، وہ ہاتھ میں بھی نہیں ٹھہرتی۔

شہزادہ کئی دن اڑتا رہا۔ راستے میں اس نے دیکھا ایک گاؤں خشک سالی کا شکار ہے، فصلیں مرجھا گئی ہیں۔ اس کے دل میں خیال آیا: "اگر میرے پاس اڑنے کی طاقت ہے تو یہ صرف میرے گھومنے کے لیے نہیں۔" وہ اڑ کر پہاڑوں کے پار گیا، جہاں ایک بڑی جھیل تھی، پھر واپس آ کر گاؤں والوں کو اس جھیل کا پورا راستہ بتایا اور ان کے بزرگوں کو گھوڑے پر بٹھا کر جھیل دکھا بھی دی، تاکہ وہ نہر کا منصوبہ بنا سکیں۔ گاؤں والوں نے اس کے لیے دعائیں کیں۔

آخر کار ایک صبح بہرام اپنے شہر کے اوپر پہنچا۔ محل کی چھت پر اترتے ہی محل میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ بادشاہ نے بیٹے کو گلے لگایا، اور اسی وقت کاریگر کو قید سے آزاد کرنے کا حکم دیا۔ بہرام نے ہاتھ جوڑ کر کہا: "ابا حضور، کاریگر کا کوئی قصور نہیں۔ قصور میرا تھا — میں نے بنانے والے سے طریقہ سیکھے بغیر اس کی بنائی ہوئی چیز استعمال کی۔ علم کے بغیر طاقت انسان کو آسمان پر بھی لے جائے تو راستہ نہیں دیتی۔"

بادشاہ نے کاریگر سے معافی مانگی اور اسے دربار کا مشیر بنا لیا۔ اور بہرام؟ اس نے گھوڑا محل میں کھڑا کر دیا اور اس کے نیچے لکھوایا: "پہلے سیکھو، پھر چلاؤ — چاہے گھوڑا لکڑی کا ہو یا زندگی کا۔" کہتے ہیں کہ وہ گھوڑا برسوں وہاں کھڑا رہا، اور ہر نیا شہزادہ اسے دیکھ کر پہلے سوال پوچھنا سیکھتا تھا، جلدبازی کرنا نہیں۔

واپسی کے راستے میں ایک اور واقعہ پیش آیا۔ ایک اونچے درے کے قریب بہرام نے نیچے ایک ٹوٹی ہوئی بیل گاڑی دیکھی، جس کے پاس ایک بوڑھا کسان اور اس کی بیٹی پریشان کھڑے تھے۔ بہرام پہلے تو گزر جانے لگا — محل میں سب اس کے منتظر تھے — مگر پھر اسے گھوڑے کے نیچے لکھوانے والی اپنی ہی بات یاد آئی۔ وہ نیچے اترا۔ اس نے اپنی رسیاں گاڑی سے باندھیں، کل گھما کر گھوڑا آہستہ آہستہ اوپر اٹھایا اور گاڑی کو درے سے باہر نکال لیا۔

بوڑھے کسان نے کہا: "شہزادے، لوگ کہتے ہیں طاقت والے اوپر اڑتے ہیں اور نیچے والوں کو بھول جاتے ہیں۔ تم پہلے ہو جو آسمان سے نیچے اتر کر ہمارے پاس آیا۔" بہرام نے جواب دیا: "بابا، یہ گھوڑا مجھے اڑنا تو سکھا گیا، مگر رکنا اور جھکنا آپ لوگوں نے سکھایا ہے۔ اڑنے والا اگر جھکنا نہ سیکھے تو اس کی پرواز صرف بھاگنا ہوتی ہے، سفر نہیں۔"

اسی سفر میں بہرام نے ایک بات اور سیکھی۔ ایک رات وہ ایک سرائے میں رکا تو سرائے والے نے اسے بتایا کہ اسی گھوڑے جیسی ایک ایجاد برسوں پہلے ایک اور کاریگر نے بھی بنائی تھی، مگر اس کا مالک فخر میں اتنا اندھا ہوا کہ اس نے بغیر رکے طوفان میں پرواز کی اور پھر کبھی واپس نہ آیا۔ بہرام نے اس رات اپنے دل میں عہد کیا کہ وہ ہر نئی طاقت کو پہلے سوال، پھر تجربے اور پھر خدمت سے گزارے گا۔

محل پہنچنے سے ایک دن پہلے اس نے گھوڑا ایک میدان میں اتارا، خود نیچے اتر کر اس کی کل اور لگام کو غور سے دیکھا، ہر حصے کا کام اپنے ذہن میں نوٹ کیا، تاکہ محل جا کر وہ کاریگر سے ہر بات پوچھ سکے اور اگلی بار استاد کے بغیر اندھا سفر نہ کرے۔ علم کا پہلا قدم یہی ہے — یہ مان لینا کہ ابھی بہت کچھ سیکھنا باقی ہے۔

اور لیلیٰ کہتی ہے، اڑنا بڑی بات نہیں، منزل پر اترنا بڑی بات ہے — اور اترنا سکھانے والا علم ہی ہوتا ہے۔ 🌙

📌 اخلاقی سبق: طاقت بغیر علم کے خطرہ ہے، اور جلدبازی ہر کرشمے کو مصیبت بنا دیتی ہے۔ کسی بھی کام سے پہلے اس کا طریقہ سیکھنا ہی اصل بہادری ہے۔ جو سیکھ کر چلتا ہے، وہی منزل پر اترتا ہے۔

Share · آگے بھیجیں

← Previous · پچھلاNext · اگلا →
← All Kahaniyan · تمام کہانیاں
Copied ✓