دل کو چھو لینے والی باتیں — شاعری، اقوال اور کہانیاں
Dil ko chhoone wali baatein — shayari, quotes aur kahaniyan, from the heart, every day.

Follow on Facebook

امیر موسیٰ کا آخری سفر

Urdu Kahani · LaylaTales

Kalamnama · کلام نامہ

امیر موسیٰ کا آخری سفر

کہتے ہیں کہ ایک بندرگاہ والے شہر میں ایک مشہور جہاز راں رہتا تھا، جس کا نام امیر موسیٰ تھا۔ امیر موسیٰ نے چالیس برس سمندروں میں گزارے تھے۔ اس نے طوفان بھی دیکھے، خاموش پانی بھی، ایسے جزیرے بھی جہاں درخت انسانوں کی طرح سرگوشیاں کرتے تھے اور ایسی راتیں بھی جن میں ستارے اتنے قریب لگتے تھے کہ ہاتھ بڑھاؤ تو چھو لو۔ مگر اس کی سب سے بڑی شہرت اس کی بہادری نہیں تھی — اس کی شہرت یہ تھی کہ اس نے کبھی کسی مسافر کو راستے میں نہیں چھوڑا۔

ایک دن شہر کے حاکم نے امیر موسیٰ کو بلوایا اور کہا: "سمندر کے اس پار ایک سفید پتھر کا جزیرہ ہے، جس کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہاں کے درختوں پر پھل کے بجائے موتی اگتے ہیں۔ جا کر دیکھ آؤ، اور اگر بات سچ ہے تو اس جزیرے کا نقشہ بنا کر لاؤ تاکہ ہمارے جہاز وہاں جا سکیں۔" امیر موسیٰ نے سفر کی تیاری شروع کر دی۔ اس نے جہاز میں پانی، خوراک، رسیاں اور استرلاب رکھا، اور عملے میں نوجوانوں کے ساتھ دو بوڑھے ملاح بھی رکھے، کیونکہ وہ کہتا تھا: "طوفان میں نوجوان کی طاقت کام آتی ہے، مگر راستہ بوڑھے کی یادداشت دکھاتی ہے۔"

بارہ دن کا سفر آرام سے گزرا۔ تیرہویں دن سمندر کا رنگ بدل گیا — پانی گہرا نیلا سے دودھیا سفید ہونے لگا، اور دور ایک جزیرہ دکھائی دیا جس کے درخت بھی سفید، زمین بھی سفید، یہاں تک کہ پرندے بھی سفید تھے۔ عملہ خوشی سے چلانے لگا۔ جہاز کنارے لگا تو امیر موسیٰ نے پہلا حکم یہ دیا: "کوئی شخص میری اجازت کے بغیر جزیرے سے کچھ نہیں توڑے گا۔ ہم یہاں مہمان ہیں، مالک نہیں۔"

جزیرے کے درخت واقعی عجیب تھے۔ ان کی شاخوں پر گول، چمکتی ہوئی چیزیں لٹک رہی تھیں جو سورج میں موتیوں کی طرح دمکتی تھیں۔ ایک نوجوان ملاح، جس کا نام جابر تھا، اپنے آپ کو روک نہ سکا۔ وہ چپکے سے ایک درخت پر چڑھا اور ایک بڑا سا "موتی" توڑ لیا۔ جیسے ہی اس نے توڑا، پورے جزیرے میں ایک عجیب سی خاموشی چھا گئی — پرندے اڑ گئے، ہوا رک گئی، اور سمندر کی لہریں بھی جیسے سانس روک کر کھڑی ہو گئیں۔

پھر جزیرے کے سب سے پرانے درخت کے نیچے سے ایک بزرگ ظاہر ہوا، جس کی داڑھی زمین کو چھوتی تھی۔ اس نے کہا: "مسافرو، یہ جزیرہ ان لوگوں کا ہے جو گزر چکے۔ یہاں کی ہر چیز امانت ہے۔ جو امانت میں خیانت کرتا ہے، سمندر اسے راستہ بھلا دیتا ہے۔" جابر کا رنگ اڑ گیا۔ وہ نیچے اترا، موتی بزرگ کے قدموں میں رکھا، اور کانپتی آواز میں معافی مانگی۔

امیر موسیٰ نے آگے بڑھ کر کہا: "بزرگ، خطا میرے عملے سے ہوئی، مگر ذمہ داری میری ہے، میں اس جہاز کا امیر ہوں۔ سزا دینی ہے تو مجھے دیں، مگر میرے لوگوں کو راستہ دے دیں۔" بزرگ نے غور سے امیر موسیٰ کو دیکھا اور مسکرا دیا: "چالیس برس میں تم پہلے امیر ہو جس نے عملے کی خطا اپنے سر لی۔ سنو، یہ موتی نہیں ہیں — یہ اس جزیرے کے بیج ہیں۔ ہر بیج سے ایک درخت بنتا ہے، اور درختوں سے یہ جزیرہ زندہ ہے۔ جو بیج توڑتا ہے، وہ آنے والی نسلوں کا سایہ چھینتا ہے۔"

بزرگ نے امیر موسیٰ کو ایک بیج تحفے میں دیا اور کہا: "یہ اپنے شہر کے ساحل پر بونا۔ جب یہ درخت بنے گا تو تمہارے شہر کے جہازوں کو ہمیشہ راستہ یاد رہے گا، کیونکہ اس کی جڑوں میں اس جزیرے کی دعا ہوگی۔ اور یاد رکھو — سمندر اسے راستہ دیتا ہے جو سمندر کی چیزوں کا احترام کرتا ہے۔"

واپسی کا سفر حیران کن حد تک آسان گزرا — ہوائیں موافق رہیں اور جہاز وقت سے پہلے بندرگاہ پہنچ گیا۔ امیر موسیٰ نے حاکم کو سارا واقعہ سچ سچ بتا دیا، جابر کی خطا بھی نہیں چھپائی اور اپنی ذمہ داری بھی نہیں۔ حاکم نے کہا: "تو جزیرہ ہمارے کسی کام کا نہیں؟" امیر موسیٰ نے جواب دیا: "حضور، جزیرے نے ہمیں اس سے بڑی چیز دی ہے — ایک سبق۔ جو قوم دوسروں کی امانت کی حفاظت کرتی ہے، سمندر اور زمین دونوں اس کی حفاظت کرتے ہیں۔"

امیر موسیٰ نے وہ بیج بندرگاہ کے قریب بویا۔ برسوں بعد وہ ایک عظیم درخت بن گیا، جس کے سائے میں ملاح بیٹھ کر سفر کی کہانیاں سناتے تھے۔ اور امیر موسیٰ اپنی آخری عمر میں بھی نوجوان ملاحوں کو ایک ہی بات کہتا تھا: "جہاز کو منزل پر نقشہ نہیں لے جاتا، کردار لے جاتا ہے۔"

ایک بات اور کہی جاتی ہے۔ واپسی پر ایک رات شدید طوفان آیا۔ لہریں جہاز کو پہاڑوں کی طرح اٹھا اٹھا کر پٹختی تھیں۔ نوجوان ملاح گھبرا گئے، کسی نے کہا کہ بیج کو سمندر میں پھینک دو، شاید جزیرے والوں کا دیا ہوا بیج ہی نحوست ہے۔ جابر — وہی نوجوان جس سے خطا ہوئی تھی — آگے بڑھا اور بولا: "نہیں! یہ بیج ہماری امتحان گاہ ہے۔ امیر صاحب نے جزیرے پر میری خطا اپنے سر لی تھی؛ آج میں اس بیج کی حفاظت اپنی جان سے کروں گا۔" وہ ساری رات بیج والے صندوق کو سینے سے لگائے بیٹھا رہا۔

صبح طوفان تھم گیا اور دور سے بندرگاہ کی روشنیاں دکھائی دینے لگیں۔ امیر موسیٰ نے جابر کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا: "دیکھا، انسان خطا سے نہیں گرتا، خطا کے بعد کے انکار سے گرتا ہے۔ تم نے اس دن معافی مانگی تھی اور آج ذمہ داری نبھائی ہے۔ اب تم ملاح سے امیر بننے کے راستے پر ہو۔" جابر کی آنکھوں میں آنسو تھے — وہی آنسو جو انسان کو غلطی سے اٹھا کر عزت تک لے جاتے ہیں۔

اور لیلیٰ کہتی ہے، امانت کی حفاظت کرنے والا کبھی راستہ نہیں بھولتا — کیونکہ راستے اچھے مسافروں کو خود یاد رکھتے ہیں۔ 🌙

📌 اخلاقی سبق: قیادت کا مطلب خطا پر پردہ ڈالنا نہیں، ذمہ داری قبول کرنا ہے۔ امانت — چاہے کسی انسان کی ہو یا قدرت کی — کی حفاظت کرنے والا ہمیشہ عزت اور راستہ دونوں پاتا ہے۔

Share · آگے بھیجیں

← Previous · پچھلاNext · اگلا →
← All Kahaniyan · تمام کہانیاں
Copied ✓