علاءالدین نے پہلا قدم اندھیرے میں رکھا تو ٹھنڈی ہوا کا ایک جھونکا اس کے چہرے سے ٹکرایا، جیسے زمین کے سینے سے کوئی لمبی سانس نکلی ہو۔ سیڑھیاں نیچے، اور نیچے ہی اترتی چلی جا رہی تھیں۔ اوپر سے جادوگر کی آواز ایک بار پھر گونجی: "یاد رکھو! کسی چیز کو ہاتھ نہ لگانا!" علاءالدین نے دل میں ماں کا چہرہ یاد کیا، ایک لمبی سانس لی اور اترتا چلا گیا۔
سیڑھیاں ایک بڑے کمرے میں جا کر ختم ہوئیں۔ یہاں عجیب سی مدھم روشنی تھی، جو نہ جانے کہاں سے آ رہی تھی۔ دیواروں کے ساتھ سونے چاندی کے برتن، بڑے بڑے صندوق اور ریشمی پردے نظر آ رہے تھے۔ علاءالدین کی آنکھیں چندھیا گئیں، مگر اسے چچا کی تنبیہ یاد تھی۔ اس نے اپنے ہاتھ اپنے پہلوؤں سے چمٹا لیے اور نظریں سیدھی رکھ کر آگے بڑھ گیا، جیسے وہاں کچھ ہو ہی نہ۔
دوسرا کمرہ اس سے بھی بڑا تھا۔ یہاں ستونوں پر جڑے ہوئے نگینے مدھم روشنی میں جگمگا رہے تھے، اور فرش پر قالین کی جگہ جواہرات کی ایسی تہ بچھی تھی جیسے کسی نے ستارے بکھیر دیے ہوں۔ ایک لمحے کو علاءالدین کے قدم رک گئے — اتنی دولت تو بادشاہ کے خزانے میں بھی نہ ہو گی! مگر پھر اسے ماں کی وہ بات یاد آئی جو وہ اکثر کہتی تھی: "بیٹا! جو چیز اپنی محنت کی نہ ہو، وہ خزانہ نہیں، آزمائش ہوتی ہے۔" وہ مسکرایا اور آگے بڑھ گیا۔
تیسرے در سے گزرتے ہی علاءالدین ٹھٹک کر رک گیا۔ اس کے سامنے زمین کے پیٹ میں ایک پورا باغ تھا! سبز درخت، ٹھنڈی ہوا، اور کہیں قریب ہی بہتے ہوئے پانی کی مدھم آواز۔ مگر جب وہ ایک درخت کے قریب گیا تو اس کے ہوش اڑ گئے — درختوں پر پھلوں کی جگہ جواہرات لٹک رہے تھے۔ یاقوت سرخ انگاروں کی طرح دہک رہے تھے، زمرد سبز روشنی بکھیر رہے تھے، اور ہیرے ایسے چمک رہے تھے جیسے رات کے آسمان سے ستارے اتر کر شاخوں پر ٹھہر گئے ہوں۔
باغ کے آخر میں ایک اونچا چبوترہ تھا، اور اس کے بیچوں بیچ ایک طاق میں وہی پرانا سا چراغ رکھا تھا — جس کے لیے یہ سارا سفر تھا۔ عجیب بات یہ تھی کہ ان گنت خزانوں کے درمیان وہ سادہ سا، میلا سا چراغ ایسے رکھا تھا جیسے یہی اس جگہ کی سب سے قیمتی چیز ہو۔ علاءالدین نے آہستہ سے چراغ اٹھایا، اس کا تیل گرا کر اسے خالی کیا اور احتیاط سے اپنے پہلو میں چھپا لیا۔ کام ہو چکا تھا۔
واپسی پر باغ سے گزرتے ہوئے علاءالدین کی نظر پھر ان چمکتے پھلوں پر پڑی۔ اس نے سوچا: چراغ تو لے لیا ہے، اب یہ خوبصورت پتھر لے جانے میں کیا حرج ہے؟ ماں دیکھ کر کتنی خوش ہو گی! اس نے دونوں جیبیں ان جواہرات سے بھر لیں، کمر پر لپیٹے ہوئے کپڑے میں بھی باندھ لیے، اور یہاں تک کہ قمیض کے دامن میں بھی ڈال لیے۔ اب وہ خاصا بھاری ہو گیا تھا، اور آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا سیڑھیوں کی طرف بڑھا۔
بڑی مشقت سے وہ روشنی والے منہ تک پہنچا۔ اوپر دن کی روشنی تھی اور جادوگر کا چہرہ جھکا ہوا نظر آ رہا تھا۔ علاءالدین نے خوشی سے آواز دی: "چچا جان! چراغ مل گیا ہے! میرا ہاتھ پکڑ کر اوپر کھینچ لیجیے، میں وزن سے لدا ہوا ہوں۔" جادوگر کی آنکھیں چمک اٹھیں، مگر اس نے ہاتھ بڑھانے کے بجائے کہا: "پہلے چراغ میری طرف بڑھاؤ، پھر تمہیں اوپر کھینچتا ہوں۔"
علاءالدین کے دل میں اچانک ایک عجیب سی کھٹک اٹھی۔ اگر چچا کو میری بھلائی عزیز ہوتی تو پہلے مجھے نکالتے، چراغ بعد میں بھی لے سکتے تھے۔ اتنی جلدی کیوں ہے؟ اس کا ہاتھ غیر ارادی طور پر اپنے پہلو کی طرف گیا، جہاں چراغ چھپا تھا۔ اس نے نرمی سے کہا: "چچا جان! میں وزن تلے دبا ہوا ہوں، ہاتھ اوپر نہیں پہنچتا۔ پہلے مجھے باہر کھینچ لیجیے — چراغ آپ ہی کا ہے، اوپر آ کر آپ کے ہاتھ میں دے دوں گا۔"
جادوگر کا چہرہ ایک دم بدل گیا۔ ساری مٹھاس پل بھر میں غائب ہو گئی اور اس کی آواز گرج دار ہو گئی: "لڑکے! چراغ ابھی دے، ورنہ یہیں سڑے گا!" علاءالدین کا دل دھڑک اٹھا — یہ آواز اس پیار کرنے والے چچا کی تو ہرگز نہ تھی۔ اس نے ایک قدم پیچھے لیتے ہوئے کہا: "نہیں! پہلے مجھے باہر نکالیں!"
اسی لمحے جادوگر نے اپنے پاس رکھے انگاروں پر آستین سے سفوف چھڑکا اور اونچی آواز میں کچھ پڑھنا شروع کر دیا۔ زمین کانپ اٹھی۔ علاءالدین نے گھبرا کر اوپر دیکھا — اور اس کے دیکھتے ہی دیکھتے وہ بھاری پتھر سرکتا ہوا منہ پر آ گیا۔ ایک زوردار دھماکے کے ساتھ دروازہ بند ہوا، اور اوپر مٹی ایسی جم گئی جیسے یہاں کبھی کوئی راستہ تھا ہی نہیں۔
چاروں طرف گھپ اندھیرا چھا گیا — ایسا اندھیرا کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہ دے۔ علاءالدین پاگلوں کی طرح چلا اٹھا: "چچا جان! چچا جان!" مگر جواب میں صرف اس کی اپنی آواز پتھروں سے ٹکرا کر لوٹ آتی تھی۔ وہ تھک کر زمین پر بیٹھ گیا۔ دور کہیں اوپر، اس کی ماں شاید اسی وقت چرخہ کاتتے ہوئے اس کے لیے دعا کر رہی ہو گی — اور وہ زمین کے پیٹ میں، خزانوں کے بیچ میں، پرانا سا چراغ سینے سے لگائے تنہا قید تھا۔
باقی کل…
