دل کو چھو لینے والی باتیں — شاعری، اقوال اور کہانیاں
Dil ko chhoone wali baatein — shayari, quotes aur kahaniyan, from the heart, every day.

Follow on Facebook

علاءالدین اور جادوئی چراغ (پہلی قسط)

Alif Laila · Urdu Kahani · LaylaTales

Kalamnama · کلام نامہ

علاءالدین اور جادوئی چراغ — غار کے کھلے ہوئے پتھر کے دروازے کے سامنے کھڑا علاءالدین، شام کی روشنی · Aladdin standing before the opened stone door of the treasure cave at dusk — cinematic scene (LaylaTales · Kalamnama)

علاءالدین اور جادوئی چراغ (پہلی قسط)

بہت پرانی بات ہے۔ مشرق کے ایک بڑے اور پرانے شہر کی تنگ گلیوں میں ایک غریب درزی رہتا تھا، جس کا نام مصطفیٰ تھا۔ دن بھر وہ اپنی چھوٹی سی دکان میں جھکا کپڑے سیتا رہتا، اور شام کو جو تھوڑے بہت پیسے کماتا، انہی سے اپنے گھر کا چولہا جلتا تھا۔ اس کا ایک ہی بیٹا تھا — علاءالدین — جس کی پرورش بڑی مشکل سے ہو رہی تھی۔

علاءالدین بچپن ہی سے کھیل کود کا شوقین تھا۔ نہ اسے پڑھنے لکھنے سے دلچسپی تھی، نہ باپ کے ہنر سے کوئی لگاؤ۔ سارا دن وہ گلیوں میں آوارہ لڑکوں کے ساتھ پھرتا رہتا۔ مصطفیٰ اکثر غم بھری آواز میں کہتا: "بیٹا! کبھی تو کام کی طرف دھیان دو، یہ دن ہمیشہ نہیں رہیں گے۔" مگر علاءالدین کے کانوں پر جوں تک نہ رینگتی۔

ایک دن محنت اور فکروں نے مصطفیٰ کو ایسا گھیرا کہ وہ بیمار پڑا اور چند ہی دنوں میں اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔ گھر کا سہارا جاتا رہا۔ علاءالدین کی ماں نے رو دھو کر سوت کاتنا شروع کیا؛ دن رات چرخے پر بیٹھ کر جو کماتی، اسی سے ماں بیٹے کی بسر اوقات ہوتی۔ علاءالدین اب پندرہ برس کا ہو چکا تھا، مگر اس کی عادتیں وہی پرانی تھیں، اور ماں بیچاری دل ہی دل میں اس کے کل کی فکر میں گھلتی رہتی۔

ادھر بہت دور، مغرب کی سرزمین میں ایک بڑا جادوگر رہتا تھا۔ اس نے جادو کی کتابوں اور اپنے علم سے جان لیا تھا کہ اسی شہر کے قریب ایک وادی کے نیچے ایک حیرت انگیز غار ہے، جس میں ایک پرانا سا چراغ رکھا ہے۔ مگر وہ چراغ معمولی نہیں تھا — وہ ایسا راز تھا جس کے سامنے بادشاہوں کے خزانے ہیچ ہیں۔ البتہ اس غار کا دروازہ ہر کسی کے ہاتھ نہیں کھلتا تھا؛ اسے صرف وہی لڑکا کھول سکتا تھا جس کا نام علاءالدین ہو اور جو درزی مصطفیٰ کا بیٹا ہو۔

جادوگر لمبا اور کٹھن سفر طے کر کے اس شہر میں آیا اور کئی دن تک لڑکے کی تلاش میں پھرتا رہا۔ قسمت کی بات کہ ایک دن اس کی نظر بازار میں کھیلتے ہوئے علاءالدین پر پڑی۔ لوگوں سے پوچھ گچھ کی تو یقین ہو گیا کہ یہی وہ لڑکا ہے۔ جادوگر آگے بڑھا، اسے پیار سے گلے لگایا اور آنکھوں میں آنسو بھر کر کہنے لگا: "بیٹا! میں تمہارا چچا ہوں، تمہارے والد کا بھائی۔ برسوں پردیس میں رہا۔ اب واپس آیا ہوں تو بھائی کے انتقال کی خبر ملی۔ آہ! میں اپنے بھائی کی صورت بھی نہ دیکھ سکا۔"

علاءالدین حیران رہ گیا۔ شام کو جادوگر اس کے گھر آیا، ماں سے ملا، تحفے تحائف دیے اور خوب میٹھی میٹھی باتیں کیں۔ اگلے دن اس نے علاءالدین کے لیے نئے اور قیمتی کپڑے خریدے۔ علاءالدین جب وہ کپڑے پہن کر گلی میں نکلا تو محلے والے دیکھتے رہ گئے۔ ماں کا دل بھی اس "چچا" کی محبت اور سخاوت دیکھ کر پگھل گیا، اور اسے ایک مدت بعد اپنے گھر میں کچھ سکون محسوس ہوا۔

ایک دن جادوگر نے کہا: "بیٹا! آج چلو، تمہیں شہر کے باہر کے باغات اور حسین نظارے دکھاؤں۔" علاءالدین خوشی خوشی ساتھ ہو لیا۔ دونوں باغوں سے گزرے، چشموں کے کنارے بیٹھے، اور باتوں باتوں میں اتنی دور نکل گئے کہ شہر پیچھے رہ گیا اور سامنے سنسان پہاڑیاں آ گئیں۔ علاءالدین تھک کر کہنے لگا: "چچا جان! اب واپس چلیے، ماں انتظار کر رہی ہوگی۔" جادوگر مسکرایا: "بس بیٹا! ایک بہت ہی انوکھا نظارہ یہیں قریب ہے، وہ دیکھ کر ہی چلتے ہیں۔"

ایک ویران وادی میں پہنچ کر جادوگر رک گیا۔ اس نے جھاڑیوں سے سوکھی لکڑیاں اکٹھی کیں، آگ جلائی اور اپنی آستین سے ایک مٹھی خوشبودار سفوف نکال کر آگ میں ڈال دیا۔ ساتھ ہی وہ عجیب و غریب زبان میں کچھ پڑھنے لگا۔ اچانک دھوئیں کا ایک بڑا بادل اٹھا، زمین لرزنے لگی اور ایک زوردار آواز کے ساتھ مٹی پھٹ گئی۔ علاءالدین کے ہوش اڑ گئے — اس کے سامنے زمین کے پیٹ میں ایک بڑا سا چوکور پتھر نمودار ہوا، جس میں پیتل کا ایک بھاری کنڈا لگا تھا۔

جادوگر نے اس کی طرف دیکھا اور کہا: "علاءالدین! ڈرو مت۔ یہ پتھر تمہارے ہی ہاتھ سے اٹھے گا، کیونکہ یہ سب کچھ تمہارے نام لکھا ہے۔ اس کے نیچے ایک غار ہے۔ تم اندر جاؤ گے، مگر ایک بات خوب یاد رکھو: راستے میں جو کچھ بھی دکھائی دے — سونا، چاندی، جواہرات — کسی چیز کو ہاتھ نہ لگانا۔ سیدھے آخر تک جانا؛ وہاں ایک طاق میں ایک پرانا سا چراغ رکھا ہوگا۔ بس وہی چراغ اٹھا کر لے آنا۔ اور یہ انگوٹھی پہن لو، یہ ہر مصیبت میں تمہاری حفاظت کرے گی۔"

علاءالدین کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ ایک طرف گہرا اندھیرا غار تھا، دوسری طرف قسمت بدل جانے کا وعدہ۔ اس نے کانپتے ہاتھوں سے پتھر کے کنڈے کو پکڑا، اپنا نام دل میں لیا، اور جیسے ہی زور لگایا، وزنی پتھر حیرت انگیز آسانی سے اٹھتا چلا گیا۔ نیچے اندھیرے میں اترتی ہوئی سیڑھیاں تھیں — اور کہیں بہت دور، ایک مدھم سی روشنی ٹمٹما رہی تھی۔

علاءالدین نے ایک لمبی سانس لی اور پہلا قدم اندھیرے کی طرف بڑھا دیا۔

باقی کل…

Share · آگے بھیجیں

← Previous · پچھلاNext · اگلا →
← All Kahaniyan · تمام کہانیاں
Copied ✓