دل کو چھو لینے والی باتیں — شاعری، اقوال اور کہانیاں
Dil ko chhoone wali baatein — shayari, quotes aur kahaniyan, from the heart, every day.

Follow on Facebook

چالاک کنیز اور تیل فروش

Urdu Kahani · LaylaTales

Kalamnama · کلام نامہ

چالاک کنیز اور تیل فروش

کہتے ہیں کہ ایک بڑے شہر میں ایک امیر سوداگر رہتا تھا، جس کا نام حاجی بشیر تھا۔ حاجی بشیر کے گھر میں ایک نوجوان کنیز کام کرتی تھی، جس کا نام مرجانہ تھا۔ مرجانہ کی کوئی بڑی طاقت نہ تھی — نہ دولت، نہ رتبہ — مگر اس کی عقل شہر بھر میں مشہور تھی۔ حاجی بشیر کہتا تھا: "میرے گھر کی سب سے قیمتی چیز میرا خزانہ نہیں، مرجانہ کی حاضر دماغی ہے۔"

انہی دنوں شہر میں ایک تیل فروش آیا، جس کا نام غالب تھا۔ غالب کا تیل سارے شہر میں مشہور ہو گیا کیونکہ وہ باقی سب سے سستا تھا۔ لوگ قطاروں میں کھڑے ہو کر اس سے تیل خریدتے۔ مگر کچھ ہی دنوں میں شکایتیں شروع ہو گئیں — کسی کا چراغ دھواں دیتا، کسی کا کھانا بگڑ جاتا، کسی کے کپڑے خراب ہو جاتے۔ غالب ہر شکایت پر ہنس کر کہتا: "سستا لو گے تو ایسا ہی ملے گا، میرا کیا قصور؟"

ایک دن حاجی بشیر نے مرجانہ کو غالب سے تیل لانے بھیجا۔ مرجانہ نے تیل کی صراحی کو غور سے دیکھا، سونگھا، اور ایک قطرہ انگلی پر لے کر رگڑا۔ پھر وہ دکان پر واپس گئی اور میٹھی آواز میں بولی: "غالب بھائی، آپ کا تیل تو اتنا عمدہ ہے کہ ہمارے حاجی صاحب نے کہا ہے کہ اس مہینے پورے محلے کا تیل آپ ہی سے لیا جائے۔ مگر ایک شرط ہے — وہ کہتے ہیں کہ تیل پہلے اس کنویں کے پانی سے تول کر دکھائیں جس سے آپ اسے پتلا… معاف کیجیے گا، جس سے آپ اپنی صراحیاں دھوتے ہیں۔"

غالب کا چہرہ زرد پڑ گیا۔ اصل راز یہ تھا کہ وہ تیل میں ایک خاص درخت کے بیجوں کا سستا رس ملا دیتا تھا، جس سے تیل مقدار میں بڑھ جاتا مگر جلنے پر دھواں اور بدبو دیتا تھا۔ مرجانہ کی بات نے اسے پکڑ لیا تھا۔ وہ گھبرا کر بولا: "نہیں نہیں، کنویں کا پانی تو… وہ تو بس…"

مرجانہ مسکرائی: "غالب بھائی، میں قاضی کے پاس نہیں جا رہی۔ میں آپ کو ایک راستہ دے رہی ہوں۔ کل سے خالص تیل بیچنا شروع کر دیں، قیمت چاہے تھوڑی زیادہ رکھ لیں۔ سچ کا سودا دیر سے بکتا ہے، مگر ہمیشہ بکتا ہے۔ جھوٹ کا سودا جلدی بکتا ہے، مگر دکان بند کر کے جاتا ہے۔ فیصلہ آپ کا ہے — عزت کی روٹی یا رسوائی کا سونا۔"

غالب نے اس رات سوچا۔ اگلی صبح اس کی دکان پر ایک نئی تختی لگی تھی: "آج سے خالص تیل — قیمت تھوڑی زیادہ، مگر وعدہ سچا۔" کچھ دن گاہک کم ہوئے، مگر پھر وہ لوگ بھی واپس آ گئے جن کے چراغ خراب ہوئے تھے، کیونکہ سچ کی خوشبو کوآخر کار پھیل ہی جاتی ہے۔ مہینوں میں غالب کی دکان شہر کی سب سے بھروسے مند دکان بن گئی۔

ادھر ایک اور قصہ ہوا۔ شہر کے ایک چور نے خبر سنی کہ حاجی بشیر سفر پر گیا ہے اور گھر میں صرف مرجانہ اور چند نوکر ہیں۔ آدھی رات کو چور تیل کے بڑے مٹی کے برتنوں میں چھپ کر گھر کے صحن تک پہنچنے کی ترکیب سوچ چکا تھا — مگر مرجانہ کو گلی کے کتے کے عجیب رویے سے شبہ ہو گیا۔ اس نے ہر برتن پر جا کر کہا: "اندر جو بھی ہے، صبح قاضی کے سامنے پیش ہوگا — اور جو خود نکل آئے، اسے میں راستہ دے دوں گی۔" ایک برتن سے ایک کانپتا ہوا آدمی نکلا، پھر دوسرے سے دوسرا۔ مرجانہ نے انہیں پکڑوا دیا، مگر ساتھ میں یہ بھی کہا: "بھوک انسان سے برے کام کرواتی ہے؛ پہلے یہ بتاؤ کہ چوری کی مجبوری کیا تھی۔" ان میں سے ایک واقعی بے روزگار مزدور نکلا۔ مرجانہ نے حاجی بشیر کے لوٹنے پر اس کے لیے کام کی سفارش کی، اور وہ مزدور بعد میں گھر کا سب سے وفادار ملازم بنا۔

حاجی بشیر جب سفر سے لوٹا تو اس نے کہا: "مرجانہ، تیری عقل نے میرا گھر بھی بچایا اور دو انسان بھی۔ یاد رکھو سب — طاقت دروازے توڑتی ہے، مگر عقل دروازے کھولتی ہے، بغیر توڑے۔"

اور مرجانہ؟ کہتے ہیں کہ حاجی بشیر نے اسے آزاد کر کے اپنی بیٹی کی طرح عزت دی، اور وہ شہر کی پہلی خاتون مشیر بنی، جس کے پاس سوداگر بھی آتے تھے اور قاضی بھی۔ کیونکہ جس کے پاس عقل اور سچائی ہو، اس کے پاس رتبے کی کمی کبھی کمی نہیں رہتی۔

غالب بھی اس کہانی میں بدل کر نکلا۔ چند مہینوں بعد اس نے اپنی دکان کے اوپر ایک نئی تختی لگائی: "غالب اینڈ سنز — خالص تیل، سچی بات۔" وہ ہر نئے گاہک کو خود بتاتا کہ سستے والے زمانے میں اس نے ملاوٹ کی تھی اور اس کا انجام رسوائی کے قریب پہنچ کر ٹلا تھا۔ لوگ اس کی سچائی سن کر اور زیادہ بھروسا کرنے لگے۔ ایک دن اس نے مرجانہ کے پاس ایک تھیلی بھیجی، جس میں ایک چھوٹا سا چراغ اور ایک پرچی تھی: "یہ چراغ اس کے لیے جس نے میری دکان کا اندھیرا دور کیا۔ قیمت نہیں، شکریہ ہے۔"

مرجانہ نے چراغ قبول کیا اور پرچی کے جواب میں لکھ بھیجا: "شکریہ قبول ہے، مگر اصل چراغ تمہارا دل ہے جو جل اٹھا ہے۔ اسے بجھنے نہ دینا، چاہے زمانہ کتنی ہی سستی ہوائیں چلائے۔"

حاجی بشیر کہتا تھا کہ اس ایک قصے نے اس کے محلے کو دو سبق دے دیے: ایک یہ کہ عقل والے کو کبھی کمتر نہ سمجھو، چاہے اس کا رتبہ چھوٹا ہو؛ اور دوسرا یہ کہ جس دکان میں سچ بکنے لگے، وہاں رزق خود قطار بنا کر کھڑا ہو جاتا ہے۔

اور لیلیٰ کہتی ہے، اصل طاقت بازو میں نہیں، دماغ میں ہوتی ہے — اور دماغ بھی اسی کا روشن ہوتا ہے جس کا دل صاف ہو۔ 🌙

📌 اخلاقی سبق: عقل اور حاضر دماغی بڑی سے بڑی طاقت سے بڑی ہوتی ہے۔ سچ کا سودا دیر سے چلتا ہے مگر ہمیشہ چلتا ہے، اور دشمن کو بھی انسان سمجھنے والا ہی اصل میں بڑا انسان ہوتا ہے۔

Share · آگے بھیجیں

← Previous · پچھلاNext · اگلا →
← All Kahaniyan · تمام کہانیاں
Copied ✓