کہتے ہیں کہ پرانے بغداد کی ایک گلی میں ایک جوہری رہتا تھا، جس کا نام صادق تھا۔ صادق کے ہیرے جواہرات اپنی چمک کے لیے مشہور تھے، مگر اس کی دکان کی اصل شہرت ایک اور چیز تھی — ایک سبز طوطا، جو سنہری سلاخوں والے پنجرے میں بیٹھا ہر آنے جانے والے کی بات دہراتا تھا۔ کوئی کہے "السلام علیکم" تو طوطا اسی لہجے میں جواب دیتا، کوئی ہنسے تو طوطا بھی ہنستا۔ بچے تو دکان کے باہر صرف اسی لیے کھڑے رہتے کہ طوطے سے اپنی آواز سن لیں۔
طوطا صادق کو ایک ملاح نے بیچا تھا۔ ملاح نے جاتے ہوئے ایک عجیب بات کہی تھی: "صاحب، یہ پرندہ صرف بولتا نہیں، یاد بھی رکھتا ہے۔ جو بات اس کے کان میں پڑ جائے، وہ کبھی اس کے دل سے نکلتی نہیں۔ دکان میں اب ایک ایسا گواہ بیٹھ گیا ہے جو جھوٹ نہیں بولتا، بس دہراتا ہے۔" صادق اس وقت ہنس دیا تھا، مگر یہ بات اسے بہت جلد سمجھ آنے والی تھی۔
صادق کے اندر ایک بری عادت تھی۔ گاہک دکان سے نکلتا تو وہ اپنے نوکر سے کہتا: "دیکھا، کتنا کنجوس آدمی تھا، گھنٹہ بھر مول بھاؤ کیا اور لیا کچھ نہیں۔" یا کسی امیر گاہک کے بارے میں کہتا: "دولت بہت ہے، عقل اللہ کی امانت ہے۔" وہ سمجھتا تھا کہ یہ باتیں دکان کی دیواروں کے اندر ہی رہتی ہیں۔
ایک دن ایک معزز گاہک دکان پر آیا۔ طوطے نے اسے دیکھتے ہی وہی جملہ دہرا دیا جو صادق نے پچھلی بار اس کے جانے کے بعد کہا تھا: "دولت بہت ہے، عقل اللہ کی امانت ہے!" دکان میں سناٹا چھا گیا۔ گاہک کا چہرہ سرخ ہو گیا اور وہ اٹھ کر چلا گیا — ہمیشہ کے لیے۔ اس شام صادق دیر تک پنجرے کے سامنے بیٹھا رہا۔ اس نے آہستہ سے کہا: "میں برسوں سمجھتا رہا کہ بات کہہ کر ختم ہو جاتی ہے۔ آج پتہ چلا، بات ختم نہیں ہوتی — بات اڑتی ہے، اور اڑ کر واپس بھی آتی ہے۔"
اس دن سے صادق کی زبان بدل گئی۔ وہ گاہک کے جانے کے بعد یا تو خاموش رہتا یا اچھی بات کہتا۔ نوکر حیران تھا کہ مالک کے لہجے میں نرمی کہاں سے آ گئی۔ طوطا اب بھی بولتا تھا، مگر اب وہ زیادہ تر یہی دہراتا: "اللہ آپ کا بھلا کرے، پھر تشریف لائیے گا۔" دکان کی فضا ہی بدل گئی — جیسے دیواروں نے بھی سکون کی سانس لی ہو۔
چند دن بعد ایک بوڑھی بیوہ اپنے مرحوم شوہر کی انگوٹھی بیچنے آئی۔ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے اور آنکھیں بار بار دکان کے دروازے کی طرف اٹھتی تھیں — اسے ڈر تھا کہ جوہری اس کی مجبوری کا فائدہ اٹھائے گا۔ صادق نے انگوٹھی دیکھی، ترازو میں رکھی، اور نرم لہجے میں کہا: "بی بی، پہلے بازار میں دو دکانوں سے اس کا بھاؤ اور کرا لو۔ پھر میرے پاس آؤ — جو سب سے زیادہ ملے، وہیں بیچنا، چاہے وہ میں نہ ہوں۔" بیوہ حیران رہ گئی۔ واپس آ کر اس نے انگوٹھی صادق ہی کو بیچی اور جاتے ہوئے کہا: "بیٹا، میرے کانوں نے جوہریوں کی بہت باتیں سنی ہیں، مگر آج پہلی بار لفظوں میں امانت کی خوشبو آئی ہے۔" اور طوطا، جیسے گواہی دے رہا ہو، بول اٹھا: "اللہ آپ کا بھلا کرے، پھر تشریف لائیے گا۔"
مگر اصل امتحان ابھی باقی تھا۔ صادق کا ایک شریکِ کار تھا، نعمان، جو ظاہر میں وفادار اور باطن میں لالچی تھا۔ شہر کے امیر نے صادق کی دکان سے ایک قیمتی ہار بننے کا حکم دیا تھا، جس کے بیچ میں ایک بڑا ہیرا جڑنا تھا۔ نعمان کے دل میں کھوٹ آیا۔ ایک رات جب دکان بند ہو چکی تھی، وہ چپکے سے اندر آیا اور سرگوشی میں منصوبہ بنانے لگا — اپنے آپ سے، جیسا کہ تنہا انسان اکثر کرتا ہے: "کل ہار جب تیار ہو جائے گا تو رات کو اصلی ہیرا نکال کر نقلی لگا دوں گا۔ صادق کو کیا خبر؟ امیر کو کیا خبر؟"
وہ یہ کہہ کر چلا گیا، یہ جانے بغیر کہ اندھیرے میں پنجرے کی دو آنکھیں جاگ رہی تھیں۔
اگلے دن ہار تیار ہوا۔ نعمان نے چالاکی سے کہا کہ ہار آج رات دکان میں ہی رکھا جائے، صبح امیر کے آدمی لے جائیں گے۔ صادق نے صندوق کی طرف ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ طوطا اچانک پوری آواز میں بول اٹھا — نعمان کی اپنی آواز، اپنی سرگوشی، لفظ بہ لفظ: "رات کو اصلی ہیرا نکال کر نقلی لگا دوں گا۔ صادق کو کیا خبر؟ امیر کو کیا خبر؟"
دکان میں موجود گاہک ٹھٹھک گئے۔ نعمان کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔ وہ کچھ کہنے ہی والا تھا کہ طوطا نے جملہ پھر دہرایا۔ صادق نے نعمان کی طرف دیکھا — اسے قاضی تک جانے کی ضرورت نہیں پڑی، سچ اپنے گواہ کے ساتھ خود حاضر تھا۔ نعمان سر جھکائے دکان سے نکلا اور پھر کبھی اس گلی میں نظر نہیں آیا۔ امیر کو جب یہ قصہ سنا تو اس نے صادق کو انعام بھیجا اور کہا: "جس دکان کی حفاظت ایک پرندہ کرے، اس کے مالک کا دل ضرور صاف ہوگا۔"
اس شام صادق نے طوطے کے پنجرے کا دروازہ کھول دیا۔ طوطا اڑا، دکان کا ایک چکر لگایا — اور واپس آ کر صادق کے کندھے پر بیٹھ گیا۔ صادق ہنس پڑا: "تم جانا نہیں چاہتے؟ ٹھیک ہے، مگر ایک وعدہ کرو — اب صرف میری اچھی باتیں دہرانا۔" پھر اس نے دکان کے دروازے کے اوپر اپنے ہاتھ سے لکھوایا: "پہلے تولو، پھر بولو — لفظ لوٹ کر آتا ہے۔" کہتے ہیں کہ بغداد کے سوداگر برسوں اپنے بچوں کو یہ دکان دکھا کر کہتے تھے: "دیکھو، یہاں ایک طوطے نے انسان کو انسان بنایا تھا۔"
اور لیلیٰ کہتی ہے، زبان سے نکلا لفظ اس طوطے کی طرح ہوتا ہے — وہ کہیں نہ کہیں بیٹھ کر دہراتا رہتا ہے، اس لیے وہی بولو جو کل اپنے سامنے سن سکو۔ 🌙
📌 اخلاقی سبق: زبان سے نکلا لفظ اور کمان سے نکلا تیر، دونوں واپس نہیں آتے۔ جو بات چھپ کر کہی جائے وہ بھی کہیں نہ کہیں محفوظ ہو جاتی ہے، اور سچ اگر وقت پر سامنے آئے تو وہی سب سے بڑی حفاظت بن جاتا ہے۔ اس لیے پہلے تولو، پھر بولو۔