دعائے یونس — اندھیروں سے نجات
لَّا إِلَٰهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ
تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، بے شک میں ہی ظالموں میں سے تھا۔
تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، بے شک میں ہی ظالموں میں سے تھا۔
یہ دعا حضرت یونس علیہ السلام نے اس وقت مانگی تھی جب وہ مچھلی کے پیٹ میں، اندھیروں کے اندر اندھیرے میں تھے — سمندر کا اندھیرا، رات کا اندھیرا اور پیٹ کا اندھیرا۔ قرآن ان اندھیروں کو ”ظلمات“ کہتا ہے۔
اس دعا کی خوبصورتی اس کی ترتیب میں ہے۔ پہلے اللہ کی وحدانیت، پھر اس کی پاکی، اور پھر — بغیر کسی بہانے کے — اپنا اعتراف: قصور میرا ہے۔ نہ حالات کو الزام، نہ لوگوں کو برا بھلا؛ صرف سچا اقرار۔
اور جواب؟ قرآن کہتا ہے: پس ہم نے ان کی دعا قبول کی اور انہیں غم سے نجات دی، اور اسی طرح ہم ایمان والوں کو نجات دیتے ہیں (سورۃ الانبیاء: ۸۸)۔ یعنی یہ دعا صرف ایک نبی کی کہانی نہیں، ہر اس بندے کے لیے دروازہ ہے جو کسی نہ کسی اندھیرے میں پھنسا ہوا ہے۔
جب راستہ نظر نہ آئے تو شکوے سے پہلے اعتراف، اور مایوسی سے پہلے یہ دعا — اندھیروں میں یہی چراغ جلتا ہے۔
The dua of Yunus (AS) from the depths — Surah Al-Anbiya (21:87)