سیرت منٹ — ہجرت کی رات: امانتوں کی واپسی
ہجرت کی رات مکہ کی تاریخ کی سب سے حساس رات تھی۔ دشمن گھر کے باہر تلواریں لیے کھڑا تھا اور اندر وہ ہستی تھی جسے پورا مکہ ”الامین“ کہتا تھا۔
اسی رات ایک فیصلہ ایسا ہوا جو کردار کی سب سے بڑی گواہی ہے۔ مکہ کے لوگوں کی امانتیں — سونا، چاندی، قیمتی اشیا — رسول اللہ ﷺ کے پاس رکھی ہوتی تھیں، انہی لوگوں کی جو اس رات آپ کی جان کے درپے تھے۔ آپ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اپنے بستر پر لٹایا اور ہدایت دی: یہ امانتیں ان کے مالکوں تک پہنچا کر مدینہ آنا۔
سوچیے: جان خطرے میں تھی، نکلنا فوری تھا، اور سامنے دشمنوں کی رکھی ہوئی دولت تھی۔ چاہتے تو کہا جا سکتا تھا کہ جنہوں نے گھر سے نکالا، ان کی امانت کیسی؟ مگر امانت دشمن کی ہو یا دوست کی، امانت ہی رہتی ہے۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ تین دن مکہ میں رہے، ایک ایک امانت اس کے مالک تک پہنچائی، تب مدینہ روانہ ہوئے۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ کردار وہ نہیں جو آسانی میں دکھے؛ کردار وہ ہے جو اس رات بھی نہ بدلے جب بدلنے کا ہر جواز موجود ہو۔
📌 سبق: امانت کا تعلق مالک کے رویے سے نہیں، رکھنے والے کے کردار سے ہے۔ جو شخص مشکل ترین گھڑی میں بھی امانت نہ توڑے، اسی کو زمانہ ”امین“ کہتا ہے۔