صدیقِ اکبر — سچ کی گواہی
مکہ میں ایک شخصیت تھی جن کا تعارف ان کے لقب سے ہوتا تھا: الصادق الامین — سچا اور امانت دار۔ یہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے، رسول اللہ ﷺ کے سب سے پرانے ساتھی۔
جب واقعۂ معراج پیش آیا اور قریش نے طعنہ زنی شروع کی کہ ایک رات میں بیت المقدس اور آسمانوں کا سفر کیسے ممکن ہے، تو کچھ لوگ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے کہ اب تو آپ بھی انکار کر دیں گے۔ مشہور ہے کہ انہوں نے فرمایا: اگر یہ بات انہوں نے کہی ہے تو سچ کہی ہے؛ میں تو اس سے بڑی باتوں پر بھی ان پر ایمان رکھتا ہوں — آسمان سے آنے والی وحی پر۔ اسی دن سے ان کا لقب ”صدیق“ مشہور ہوا۔
ان کی سچائی صرف زبان کی نہیں تھی، عمل کی بھی تھی۔ غلاموں کو خرید کر آزاد کرنا ان کی عادت تھی؛ حضرت بلال رضی اللہ عنہ سمیت کئی مظلوموں کی آزادی ان کی دولت سے ممکن ہوئی۔ دولت ان کے لیے جمع کرنے کی چیز نہیں، بانٹنے کی امانت تھی۔
ہجرت کی رات غارِ ثور میں جب دشمن قدموں کے قریب آ گیا اور دل میں گھبراہٹ پیدا ہوئی تو قرآن نے اس لمحے کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا — لا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا: غم نہ کر، بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے (سورۃ التوبہ: ۴۰)۔
📌 سبق: سچائی وہ ہوتی ہے جو آسان وقت میں نہیں، آزمائش کے وقت ثابت ہو۔ جو شخص حق پر اس وقت کھڑا رہے جب کھڑا ہونا مہنگا پڑے، زمانہ اسے ”صدیق“ کہتا ہے۔