کہتے ہیں کہ بغداد کے بازار میں ایک ترازو ساز رہتا تھا، جس کا نام حامد بن سعید تھا۔ حامد کے بنائے ترازو پورے شام و عراق میں مشہور تھے۔ سوداگر کہتے تھے کہ حامد کے ترازو سے جو تولا جائے، اس پر قیامت تک اعتبار کیا جا سکتا ہے۔ اس کی دکان چھوٹی تھی، مگر اس کی ساکھ بڑی تھی۔
ایک سال خلیفہ کے ایک عامل نے محصول (ٹیکس) کی وصولی کا نیا نظام بنایا۔ عامل کے کارندے بازار کے سوداگروں سے غلہ تول کر وصول کرتے تھے۔ ایک دن عامل کا خاص کارندہ حامد کی دکان پر آیا اور خلوت میں کہا: ”حامد، ہمیں کچھ ایسے ترازو چاہئیں جو دیکھنے میں بالکل سیدھے لگیں، مگر تولتے وقت تھوڑا سا ہماری طرف جھکیں۔ سوداگر کو پتہ بھی نہ چلے اور محصول بھی زیادہ آئے۔ قیمت تم منہ مانگی لے لو۔“
بازار کے دو پرانے سوداگروں کو اس پیشکش کی بھنک پڑی تو وہ رات کو حامد کے گھر آئے۔ ایک نے کہا: ”حامد، عامل سے الجھنا دانشمندی نہیں؛ انکار کرو گے تو دکان بند ہو جائے گی۔“ دوسرا بولا: ”تھوڑا سا جھکاؤ ہے، کسے خبر ہو گی؟“ حامد نے چراغ کی روشنی میں اپنے ہاتھوں کی طرف دیکھا اور کہا: ”خبر اسے ہو گی جس نے یہ ہاتھ بنائے ہیں، اور اسے بھی جسے میں آئینے میں روز دیکھتا ہوں۔ میری دکان بند ہو سکتی ہے، مگر میرا ترازو بند نہیں ہو گا۔“ دونوں سوداگر خاموش لوٹ گئے۔
حامد نے سکون سے پوچھا: ”جھکاؤ کتنا ہو؟“ کارندہ خوش ہوا کہ بات بن گئی؛ اس نے مقدار بتائی۔ حامد نے کہا: ”اچھا، ایک شرط ہے۔ ترازو میں خود بنا دوں گا، مگر اس کے پلڑے پر میرا نام نہیں لکھا جائے گا؛ نام تمہارا لکھا جائے گا — بڑے بڑے حروف میں، تاکہ قیامت تک لوگوں کو یاد رہے کہ یہ ترازو کس کے کہنے پر جھکا تھا۔“ کارندہ کا رنگ اڑ گیا۔
اگلے دن کارندہ عامل کے پاس گیا اور ساری بات سنائی۔ اتفاق سے عامل اس دن خود بازار کے معائنے پر نکلا ہوا تھا اور اس نے دکان کے باہر کھڑے ہو کر یہ ساری گفتگو سن لی تھی۔ وہ اندر آیا اور حامد سے کہا: ”ترازو ساز، تم جانتے تھے کہ انکار کی سزا کیا ہو سکتی ہے؟“ حامد نے کہا: ”حضور، میرا باپ ترازو بناتا تھا اور کہتا تھا: بیٹا، لوہا جھک جائے تو سیدھا ہو سکتا ہے، انسان جھک جائے تو اپنا بھروسا کھو دیتا ہے۔ میری دکان کی کل جائیداد یہی بھروسا ہے۔“
اس واقعے کے بعد بازار کا ماحول بدل گیا۔ اب سوداگر سرکاری اہل کاروں کو خود کہتے: ”تولنا ہے تو حامد کے ترازو سے تولو۔“ عامل نے محصول کے نظام میں یہ بھی لکھ دیا کہ جس سالانہ معائنے میں کوئی سرکاری ترازو حامد کے معیار سے ہٹا ہوا پایا گیا، اس کا ذمہ دار افسر جواب دہ ہو گا۔ یوں ایک چھوٹی سی دکان کی سچائی پورے بازار کا قانون بن گئی۔
عامل، جو خود نیک نیت آدمی تھا، اس نے اسی وقت اپنے کارندے کو معزول کیا اور بازار میں اعلان کروایا کہ سرکاری تول حامد کے معیار کے ترازو سے ہوا کرے گا۔ اس کے بعد جتنے بھی نئے ترازو سرکاری کام کے لیے بنے، ان پر حامد کی مہر لگنے لگی۔
کہتے ہیں حامد بوڑھا ہو کر بھی اسی چھوٹی دکان میں بیٹھتا رہا۔ جب کوئی شاگرد اس سے پوچھتا کہ استاد، آپ امیر کیوں نہ ہوئے؟ تو وہ اپنے سب سے پرانے ترازو کی طرف اشارہ کر کے کہتا: ”یہ دیکھو — پچاس برس سے یہ ایک اونس بھی نہیں جھکا۔ آدمی کی کمائی روپیہ نہیں ہوتی، بیٹا؛ کمائی یہ ہوتی ہے کہ پچاس برس بعد بھی لوگ تمہارے نام پر آنکھ بند کر کے بھروسا کر لیں۔“
اور لیلیٰ کہتی ہے، عدل کا ترازو جس دن ڈگمگائے، اس دن ریاست کا دل ڈگمگاتا ہے۔ 🌙
📌 اخلاقی سبق: ایمانداری کا اصل امتحان وہاں ہوتا ہے جہاں جھوٹ بولنے یا ڈنڈی مارنے کا فائدہ سامنے کھڑا ہو۔ جو شخص چھوٹی سی بے ایمانی کے عوض اپنا ضمیر نہ بیچے، زمانہ اسی کے ترازو پر بھروسا کرتا ہے — اور بھروسا ہی اصل دولت ہے۔