دل کو چھو لینے والی باتیں — شاعری، اقوال اور کہانیاں
Dil ko chhoone wali baatein — shayari, quotes aur kahaniyan, from the heart, every day.

Follow on Facebook

اندھے بزرگ کا چراغ

Urdu Kahani · LaylaTales

Kalamnama · کلام نامہ

اندھے بزرگ کا چراغ

کہتے ہیں کہ ایک پرانے شہر کی تنگ گلیوں میں ایک بزرگ رہتے تھے، جن کا نام نور الدین تھا۔ نور الدین جوانی میں ہی بینائی کھو بیٹھے تھے، مگر شہر کا بچہ بچہ انہیں "چراغ والے بابا" کہتا تھا۔ وجہ یہ تھی کہ وہ ہر رات، بلا ناغہ، ہاتھ میں ایک روشن چراغ لیے گلیوں سے گزرتے اور مسجد کے پاس والے چوک تک جاتے۔ برسا ہو یا آندھی، ان کا چراغ وقت پر گلی میں نظر آتا — جیسے اندھیرے میں کوئی چھوٹا سا سورج نکل آیا ہو۔

لوگ حیران ہوتے تھے۔ ایک رات محلے کے ایک نوجوان نے، جس کا نام اسلم تھا اور جو تیل بیچنے کا کام کرتا تھا، ہنستے ہوئے پوچھ ہی لیا: "بابا! معاف کیجیے گا، مگر آپ تو دیکھ ہی نہیں سکتے۔ یہ چراغ آپ کس کے لیے جلاتے ہیں؟ آپ کے لیے تو روشنی اور اندھیرا برابر ہے۔"

بزرگ رک گئے۔ ان کے چہرے پر ایک پرانی مسکراہٹ آئی۔ انہوں نے کہا: "بیٹا، تم ٹھیک کہتے ہو — یہ چراغ میرے لیے نہیں ہے۔ یہ تمہارے لیے ہے، اور ہر اس مسافر کے لیے جو اس گلی سے گزرتا ہے۔ میں دیکھ نہیں سکتا، مگر تم تو دیکھ سکتے ہو۔ چراغ جلتا رہے گا تو تم مجھے آتا دیکھ لو گے، راستہ دے دو گے، اور نہ تم ٹھوکر کھاؤ گے، نہ میں۔ روشنی ہمیشہ اپنے لیے نہیں ہوتی، بیٹا — کبھی کبھی دوسروں کے راستے کے لیے بھی ہوتی ہے۔"

اسلم ہنس کر آگے بڑھ گیا۔ دل میں اس نے سوچا کہ بزرگ بھی عجیب باتیں کرتے ہیں — اپنی اندھیری آنکھوں کے لیے دوسروں کو روشنی دینا، یہ کہاں کی عقلمندی ہے؟ وہ تو ہر چیز کو نفع اور نقصان سے تولنے والا نوجوان تھا۔ تیل کا مٹکا، تول کا بانٹ، دن کی کمائی — اس کی دنیا انہی حسابوں میں سمٹی ہوئی تھی۔

محلے کے لوگ البتہ بزرگ کی قدر جانتے تھے۔ سردیوں میں کوئی ان کے دروازے پر چراغ کے لیے تیل کی بوتل رکھ جاتا، کوئی بتیاں بنا کر دے جاتا، اور کوئی خاموشی سے چراغ کا شیشہ صاف کر دیتا۔ بزرگ ہر ایک کو ایک ہی دعا دیتے: "اللہ تمہارے راستے روشن رکھے۔" ایک بار ایک چھوٹی سی بچی دھند میں راستہ بھول کر روتی ہوئی اسی موڑ پر آ لگی جہاں بزرگ کھڑے ہوتے تھے۔ وہ ڈر کر چراغ کی روشنی کے دائرے میں سمٹ گئی اور وہیں بیٹھ کر ماں کا انتظار کرنے لگی۔ محلے والے اسے ڈھونڈتے ہوئے آئے تو بچی نے کہا: "میں اندھیرے سے نہیں ڈری، بابا کا چراغ جل رہا تھا۔" اس رات کئی گھروں کے دروازوں پر پہلی بار اپنے اپنے چراغ بھی جل اٹھے تھے — مگر صبح تک وہ سب بھول چکے تھے کہ یہ عادت انہیں کس نے سکھائی تھی۔

دن گزرتے گئے۔ ایک رات شہر پر ایسی گھٹا چھائی کہ چاند ستارے سب چھپ گئے اور دھند گلیوں میں اتر آئی۔ اسی رات شہر کے باہر سے ایک قافلہ واپس آ رہا تھا — اونٹوں پر سامان لدا تھا اور ان کے ساتھ عورتیں اور بچے بھی تھے۔ گلی کا وہ موڑ جہاں ایک پرانا کنواں برسوں سے بے ڈھکنا پڑا تھا، اندھیرے میں کسی کو نظر نہیں آ رہا تھا۔ قافلے کا پہلا اونٹ اسی موڑ کی طرف بڑھ رہا تھا۔

اسی لمحے موڑ کے اس پار ایک روشنی ٹمٹمائی۔ قافلے والے نے رک کر دیکھا — چراغ والے بابا اپنی جگہ کھڑے تھے، جہاں وہ ہر رات کھڑے ہوتے تھے۔ روشنی میں کنویں کا منہ صاف نظر آ گیا۔ قافلہ رک گیا، راستہ بدلا، اور سب جانور اور انسان سلامتی سے گزر گئے۔ قافلے کے سردار نے اتر کر بزرگ کا ہاتھ چوما اور کہا: "بابا، آپ کے اس چھوٹے سے چراغ نے آج کئی جانیں بچا لی ہیں۔"

خبر محلے میں پھیل گئی، مگر اسلم اب بھی دل میں کہتا تھا کہ یہ اتفاق تھا۔ پھر ایک ہفتے بعد بزرگ بیمار پڑ گئے۔ تین راتیں ان کا چراغ گلی میں نظر نہ آیا۔ تیسری رات وہی اسلم اپنے تیل کے مٹکے سر پر اٹھائے اسی گلی سے گزر رہا تھا۔ دھند اور اندھیرا ایسا تھا کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیتا تھا۔ اچانک اس کا پاؤں اسی کنویں کے کنارے کی ٹوٹی اینٹ پر پڑا — وہ لڑھکا، مٹکا چھوٹا، اور وہ خود کنویں کی طرف جھک گیا۔ آخری لمحے میں اس نے کنارے کی لکڑی پکڑ لی اور چیخا۔

شور سن کر محلے والے دوڑے، رسی ڈالی، اور اسلم کو نکال لیا۔ وہ کانپ رہا تھا۔ زمین پر بیٹھ کر اس نے پہلی بات یہ کہی: "آج بابا کا چراغ ہوتا تو میں اس کنویں کے قریب ہی نہ جاتا۔ میں تین راتوں سے اس گلی میں اندھیرا دیکھ رہا تھا، مگر سمجھا آج — یہ اندھیرا تو برسوں سے تھا، بس ایک بزرگ اسے ہر رات اپنے حصے کی روشنی سے کاٹ دیتے تھے، اور ہم سمجھتے تھے کہ گلی خود روشن ہے۔"

صبح اسلم بزرگ کے گھر گیا، ان کے قدموں میں بیٹھا اور کہا: "بابا، میں آپ پر ہنسا تھا۔ آج سے آپ کا چراغ میں جلاؤں گا — جب تک آپ ٹھیک نہیں ہو جاتے، اور اس کے بعد بھی، آپ کے ساتھ چلوں گا۔" بزرگ نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا: "بیٹا، چراغ جلانا مشکل نہیں، مشکل یہ ماننا ہے کہ روشنی بانٹنے سے کم نہیں ہوتی۔ شمع سے شمع جلتی ہے تو دونوں کا نور بڑھتا ہے، گھٹتا کسی کا نہیں۔"

بزرگ ٹھیک ہو گئے، مگر اب گلی میں ایک نہیں، دو چراغ نظر آتے تھے — ایک بزرگ کے ہاتھ میں، ایک نوجوان کے ہاتھ میں۔ اور کہتے ہیں کہ اس شہر میں پھر کسی نے کسی اندھے کو چراغ اٹھائے دیکھ کر نہیں ہنسا، کیونکہ سب جان گئے تھے کہ کچھ لوگ اپنے لیے نہیں جیتے — وہ دوسروں کے راستوں کے لیے جلتے ہیں، خاموشی سے، بلا ناغہ، بغیر کسی شکوے کے۔

اور لیلیٰ کہتی ہے، جس کے پاس دو آنکھیں ہوں وہ بھی اندھا ہو سکتا ہے، اور جس کے پاس آنکھیں نہ ہوں وہ بھی پورے شہر کی روشنی بن سکتا ہے — فرق آنکھوں کا نہیں، نیت کا ہوتا ہے۔ 🌙

📌 اخلاقی سبق: نیکی ہمیشہ اپنے فائدے کے لیے نہیں ہوتی۔ کچھ روشنیاں دوسروں کے راستے کے لیے جلائی جاتی ہیں، اور وہی روشنی ایک دن جلانے والے کو بھی ٹھوکر سے بچا لیتی ہے۔ روشنی بانٹنے سے کم نہیں ہوتی — شمع سے شمع جلتی ہے تو نور بڑھتا ہے۔

Share · آگے بھیجیں

← Previous · پچھلاNext · اگلا →
← All Kahaniyan · تمام کہانیاں
Copied ✓