کہتے ہیں کہ ایک سرسبز وادی کے ایک گاؤں میں دو بھائی رہتے تھے — بڑا سالم اور چھوٹا حامد۔ والد کے انتقال کے بعد دونوں کو ایک کھیت اور ایک بڑا سا کھلیان ورثے میں ملا۔ دونوں نے والد کی وصیت کے مطابق ہر چیز آدھی آدھی بانٹ لی: کھیت آدھا آدھا، کھلیان آدھا آدھا، اور ہر فصل کی پیداوار بھی آدھی آدھی۔ گاؤں والے کہتے تھے کہ انصاف میں یہ دونوں بھائی مثال ہیں — نہ کبھی جھگڑا، نہ کبھی ترازو پر بحث۔
سالم شادی شدہ تھا، اس کے چار بچے تھے۔ حامد ابھی اکیلا تھا، اپنی چھوٹی سی جھونپڑی میں رہتا اور اکثر کھانا بڑے بھائی کے گھر کھا لیتا۔ فصل کٹی تو اس برس گندم بہت اچھی ہوئی۔ دونوں کے کھلیان بھر گئے۔ ترازو لگی، بوریاں گنی گئیں، اور ہر ایک کے حصے کی گندم اس کے اپنے گودام میں رکھ دی گئی — برابر، تول کر، انصاف سے۔
اس رات سالم سویا نہیں۔ چاندنی رات میں وہ اپنے گودام کی طرف دیکھتا رہا اور سوچتا رہا: "حامد اکیلا ہے۔ آج اس کے پاس وقت ہے، طاقت ہے، مگر کل جب وہ بوڑھا ہوگا، بیمار ہوگا، تو اس کا سہارا کون ہوگا؟ اس کا حصہ مجھ سے زیادہ ہونا چاہیے تھا۔ باپ کی وصیت انصاف کی تھی، مگر محبت انصاف سے بڑی ہوتی ہے۔" وہ اٹھا، ایک بوری اپنے کندھے پر رکھی، اور خاموشی سے چل کر حامد کے گودام میں ڈال آیا۔ دل میں اس نے کہا: "رب کو گواہ رکھتا ہوں، یہ میرا انصاف نہیں، میری محبت ہے۔"
ادھر اسی رات حامد بھی جاگ رہا تھا۔ وہ سوچ رہا تھا: "بھائی کے چار بچے ہیں، بیوی ہے، مہمان آتے جاتے ہیں۔ اس کے خرچے مجھ سے دگنے ہیں۔ میرا اکیلے کا پیٹ تو آدھی بوری میں بھی بھر جاتا ہے۔ اصل حق دار تو وہ ہے، میں نے آدھا حصہ لے کر بھائی پر ظلم کیا ہے۔" وہ بھی اٹھا، ایک بوری کندھے پر رکھی، اور اسی چاندنی میں چل کر سالم کے گودام میں ڈال آیا۔ اس کے دل میں بھی یہی جملہ تھا: "یہ انصاف نہیں، محبت ہے۔"
صبح دونوں نے اپنے گودام دیکھے اور حیران رہ گئے — بوریاں پوری کی پوری تھیں! سالم نے گنیں: کل جتنی تھیں، آج بھی اتنی۔ حامد نے گنیں: وہی حال۔ دونوں نے دل میں سوچا کہ شاید رات کو غلطی سے بوری ادھر ادھر ہو گئی ہوگی، یا گنتی میں بھول ہوئی ہوگی۔ مگر یہ سلسلہ چلتا رہا۔ ہر رات سالم ایک بوری حامد کے گودام میں رکھ آتا، اور ہر رات حامد ایک بوری سالم کے گودام میں۔ اور ہر صبح دونوں کے گودام بھرے کے بھرے ملتے۔
گاؤں میں بات پھیل گئی۔ لوگ کہنے لگے: "ان بھائیوں کے گودام برکت والے ہیں — ان میں سے نکلتا ہے مگر گھٹتا نہیں۔" ایک مسافر فقیر گاؤں سے گزرا تو اس نے ایک بچے سے پوچھا: "بیٹا، یہ دو گودام کس کس کے ہیں؟" بچے نے کندھے اچکائے: "پتہ نہیں، چچا — یہاں تو دونوں گودام دونوں بھائیوں کے ہیں۔ جو آتا ہے، جس گودام سے چاہتا ہے، بوری اٹھا لیتا ہے۔" فقیر ہنس پڑا اور بولا: "جس جگہ 'میرا' اور 'تیرا' ختم ہو جائے، وہاں گنتی خود ہار مان لیتی ہے۔"
قاضی صاحب نے سنا تو وہ بھی ایک دن دونوں کو بلا کر پوچھنے لگے۔ دونوں بھائی خاموش رہے — ہر ایک سمجھتا تھا کہ راز صرف اس کا ہے، اور نیکی کا راز کھولنا نیکی کو چھوٹا کر دیتا ہے۔ قاضی مسکرائے اور بولے: "برکت ہمیشہ راز میں رہتی ہے، بیٹو۔ جس دن وہ اعلان بن جائے، اس دن وہ سودا بن جاتی ہے۔"
پھر ایک رات آسمان پر پورا چاند تھا اور وادی چاندنی میں نہائی ہوئی تھی۔ دونوں بھائی ایک ہی وقت اپنے اپنے گھر سے نکلے — سالم حامد کے گودام کی طرف، حامد سالم کے گودام کی طرف۔ درمیانی راستے پر، کھیت کے بیچوں بیچ، وہ آمنے سامنے آ گئے — دونوں کے کندھوں پر گندم کی بوریاں، دونوں کی آنکھیں حیرت سے پھٹی ہوئی۔
ایک لمحے کو دونوں ٹھٹھک گئے۔ پھر حامد کی بوری زمین پر گری، سالم کی بوری بھی۔ اور کھیت کے بیچ میں، چاند کی گواہی میں، دونوں بھائی گلے مل کر پہلے ہنسے، پھر رو دیے۔ سالم نے کہا: "تو بھی؟" حامد نے کہا: "آپ بھی؟" اس رات انہیں پتہ چلا کہ ان کے گودام اس لیے نہیں گھٹتے تھے کہ ہر رات ایک بھائی دوسرے کے گودام میں اپنے حصے کی محبت ڈال آتا تھا — اور محبت وہ واحد چیز ہے جو دینے سے گھٹتی نہیں، بڑھتی ہے۔
اس برس گاؤں میں قحط کی آہٹ آئی۔ بارشیں کم ہوئیں، کئی گھروں کے گودام خالی ہونے لگے۔ تب ان دونوں بھائیوں نے اپنے "برکت والے" گوداموں کے دروازے پورے گاؤں کے لیے کھول دیے۔ سالم نے کہا: "جس گودام میں کمی کبھی آئی ہی نہیں، وہ صرف ہمارا کیسے رہ سکتا ہے؟ یہ تو امانت تھی۔" قحط گزر گیا اور گاؤں کا کوئی گھر بھوکا نہیں سویا۔
برسوں بعد جب دونوں بھائی بوڑھے ہو گئے تو ان کے پوتوں نے پوچھا: "دادا، کیا واقعی آپ کے گودام جادوئی تھے؟" سالم نے مسکرا کر کہا: "جادو گودام میں نہیں تھا، بیٹو۔ جادو اس نیت میں تھا جس سے ہم رات کو اٹھتے تھے۔ ترازو انصاف تولتی ہے، مگر گھر محبت سے بھرتا ہے۔ جس دن تم نے اپنے بھائی کے حصے میں اپنے حصے سے بڑھا کر دینا سیکھ لیا، اس دن تمہارے گودام بھی کبھی خالی نہیں ہوں گے۔"
اور لیلیٰ کہتی ہے، دنیا کی سب سے عجیب گنتی محبت کی ہے — اس میں دینے والا بھی امیر ہوتا ہے اور لینے والا بھی، اور حساب کبھی کم نہیں پڑتا۔ 🌙
📌 اخلاقی سبق: انصاف ترازو کا کام ہے، مگر رشتے محبت سے چلتے ہیں۔ جو اپنے حصے میں سے چھپ کر دوسرے کے حصے میں بڑھا دے، اس کے حصے میں کبھی کمی نہیں آتی۔ محبت وہ واحد دولت ہے جو بانٹنے سے بڑھتی ہے اور چھپا کر دینے سے اور بھی قیمتی ہو جاتی ہے۔