دل کو چھو لینے والی باتیں — شاعری، اقوال اور کہانیاں
Dil ko chhoone wali baatein — shayari, quotes aur kahaniyan, from the heart, every day.

Follow on Facebook

بخیل سوداگر اور چڑیا

Urdu Kahani · LaylaTales

Kalamnama · کلام نامہ

بخیل سوداگر اور چڑیا

کہتے ہیں کہ اصفہان کے قریب ایک گاؤں میں ایک سوداگر رہتا تھا، جس کا نام کریم بخش تھا، مگر گاؤں والے اسے پیچھے سے ”کنجوی کریم“ کہتے تھے۔ اس کے گندم کے گودام گاؤں بھر میں سب سے بڑے تھے، مگر اس کے دروازے گاؤں بھر میں سب سے کم کھلتے تھے۔ کوئی مانگنے آتا تو وہ کہتا: ”بھائی، آج کل زمانہ خراب ہے، دانہ دانہ سنبھال کر رکھنا پڑتا ہے۔“

اسی گلی میں ایک بیوہ عورت اپنے تین بچوں کے ساتھ رہتی تھی۔ ایک شام وہ خالی برتن لیے کریم بخش کے دروازے پر آئی اور بس اتنا کہا: ”بھائی، آج بچوں کے لیے مٹھی بھر آٹا دے دو، کل مزدوری ملے گی تو لوٹا دوں گی۔“ کریم بخش نے دروازے کی درز سے جھانک کر کہا: ”بی بی، روز روز یہ سلسلہ نہیں چل سکتا؛ اللہ کا نام لو اور آگے بڑھو۔“ وہ عورت خاموشی سے لوٹ گئی، مگر جاتے ہوئے اس کے خالی برتن کی گونج کریم بخش کے کانوں میں دیر تک رہی؛ اس رات اس نے کھانا تو کھایا، مگر مزہ نہ آیا۔

اسی گودام کی چھت کے ایک کونے میں ایک چڑیا نے گھونسلہ بنا رکھا تھا۔ روز صبح وہ دانہ چگنے نیچے اترتی اور شام کو واپس لوٹ جاتی۔ کریم بخش اسے دیکھتا تو منہ بناتا: ”یہ مفت خور میرا اناج کھا رہی ہے۔“ ایک دن اس نے لڑکے سے کہا کہ گھونسلہ اتار پھینکو۔ لڑکا چھت پر چڑھا، مگر گھونسلے میں تین ننھے بچے دیکھ کر اس کا دل پگھل گیا۔ اس نے گھونسلہ وہیں رہنے دیا اور مالک سے کہہ دیا کہ چڑیا اڑ گئی تھی۔

اسی برس بارشیں روٹھ گئیں۔ کھیت سوکھ گئے، کنویں نیچے اتر گئے اور گاؤں کے چولہے ٹھنڈے پڑنے لگے۔ لوگ کریم بخش کے دروازے پر آتے اور خالی ہاتھ لوٹ جاتے۔ اس کے گودام میں پچھلے تین برس کی گندم محفوظ تھی، مگر اس کا دل اپنے گودام سے بھی زیادہ سخت بند تھا۔

ایک رات کریم بخش گودام کا چکر لگانے گیا تو اسے عجیب آواز سنائی دی۔ اس نے کان لگایا — چوہے گندم کھا رہے تھے۔ وہ مشعل لے کر اندر گیا تو دیکھا کہ گودام کے ایک حصے میں نمی اور کیڑوں نے آدھی فصل برباد کر دی ہے۔ برسوں سے بند دروازوں نے ہوا روک رکھی تھی اور محفوظ سمجھی جانے والی گندم سڑ چکی تھی۔ کریم بخش سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔

اسی لمحے اس کی نظر چھت کے کونے پر پڑی۔ چڑیا اپنے بچوں کو دانہ کھلا رہی تھی — وہی دانے جو روز زمین پر گرے ہوئے ملتے تھے۔ کریم بخش کو اچانک خیال آیا کہ جس مخلوق کو اس نے ”مفت خور“ کہا تھا، وہ اپنے حصے سے زیادہ کبھی نہیں لیتی تھی؛ لے جاتی بھی تو بس اتنا جتنا اس کے بچوں کے لیے کافی ہوتا۔ اور وہ، جس کے پاس سب سے زیادہ تھا، اپنی زیادہ سے ڈر کر سو نہیں پاتا تھا۔

اگلی صبح گاؤں والوں نے عجیب منظر دیکھا۔ کنجوی کریم کے گودام کے دروازے برسوں بعد کھلے تھے اور وہ خود دروازے پر کھڑا ہر آنے والے کو اس کے گھر کے افراد کے حساب سے گندم تول کر دے رہا تھا۔ کسی نے پوچھا: ”حضور، یہ اچانک سخاوت کیسے؟“ کریم بخش نے مسکرا کر کہا: ”جو گندم میں نے سب سے چھپا کر رکھی، وہ کیڑوں نے کھا لی۔ جو بانٹ رہا ہوں، وہ کم از کم کسی کے چولہے تک تو پہنچے گی۔“

اس رات کریم بخش برسوں بعد سکون سے سویا۔ خواب میں بھی اسے گودام کے بند دروازے نظر نہیں آئے؛ صبح اٹھا تو دل میں عجیب ہلکا پن تھا۔ اس نے نوکر سے کہا: ”آج سے گودام کا ایک حصہ ’مہمان خانہ‘ کہلائے گا — جو آئے گا، خالی نہیں جائے گا۔“ نوکر حیران تھا کہ وہ لفظ ”مہمان“ جو اس گھر میں برسوں سے مر چکا تھا، ایک چڑیا نے زندہ کر دیا ہے۔

اس برس گاؤں کا کوئی بچہ بھوکا نہیں سویا۔ اور جب اگلی فصل آئی تو گاؤں والوں نے مل کر کریم بخش کے گودام پہلے بھرے۔ کہتے ہیں اس دن کے بعد چڑیا اسی چھت پر رہی، اور کریم بخش ہر شام اس کے گھونسلے کے نیچے مٹھی بھر دانہ رکھنا اپنا معمول بنا چکا تھا — ”یہ اس کا کرایہ ہے،“ وہ ہنس کر کہتا، ”جس نے مجھے سب سے بڑا سبق سکھایا۔“

اور لیلیٰ کہتی ہے، کنجوی کا خزانہ ہمیشہ آدھا رہتا ہے؛ سخی کا آدھا بھی پورے گاؤں کو کافی ہو جاتا ہے۔ 🌙

📌 اخلاقی سبق: دولت کی اصل قیمت گودام کے سائز سے نہیں، اس کے دروازے کے کھلنے سے ناپی جاتی ہے۔ جو شخص ضرورت کے وقت بانٹنا سیکھ لے، اس کی کمی کبھی اسے رسوا نہیں کرتی؛ اور جو ہر دانے کو قید کر لے، اس کا انبار بھی آخر کار بے برکت ہو جاتا ہے۔

Share · آگے بھیجیں

← Previous · پچھلاNext · اگلا →
← All Kahaniyan · تمام کہانیاں
Copied ✓