دل کو چھو لینے والی باتیں — شاعری، اقوال اور کہانیاں
Dil ko chhoone wali baatein — shayari, quotes aur kahaniyan, from the heart, every day.

Follow on Facebook

دو مسافر اور کنواں

Urdu Kahani · LaylaTales

Kalamnama · کلام نامہ

دو مسافر اور کنواں

کہتے ہیں کہ دو مسافر، ناصر اور ضمیر، دمشق سے ایک دور کے شہر کی طرف روانہ ہوئے۔ راستہ لمبا تھا اور درمیان میں سات دن کا صحرا پڑتا تھا۔ سفر سے پہلے دونوں نے ایک دوسرے سے وعدہ کیا: جو مشکل پیش آئے، مل کر جھیلیں گے؛ جو ملے، آدھا آدھا بانٹیں گے۔

تیسرے دن تیز آندھی نے راستے کے نشان مٹا دیے۔ سورج تپتا رہا اور مشکیزے کا پانی گھٹنے لگا۔ پانچویں دن حالت یہ ہوئی کہ مشکیزے میں بس چند گھونٹ باقی رہ گئے۔ ناصر نے کہا: ”ضمیر بھائی، آگے بڑھنے سے پہلے پانی کی تلاش کرتے ہیں؛ سنا ہے اس وادی میں کہیں ایک پرانا کنواں ہے۔“

صحرا کی راتیں بھی عجیب ہوتی ہیں۔ دن کی آگ کے بعد ایسی سردی اترتی کہ کپکپی بند نہ ہوتی۔ ایک رات ٹھنڈ سے بچنے کے لیے دونوں ایک ہی کمبل میں لپٹے بیٹھے رہے اور پرانی باتیں کھول بیٹھے — گھر، بچے، پرانے شہر کی گلیاں۔ ناصر نے ہنس کر کہا تھا: ”ضمیر، ساتھی ہو تو ایسا؛ مصیبت میں بھی محفل جمی رہے۔“ ضمیر نے بھی ہنس کر جواب دیا تھا۔ کون جانتا تھا کہ یہی کمبل والی دوستی چند دن بعد ایک مشکیزے پر آزمائی جائے گی۔

دونوں کنویں کی تلاش میں نکلے۔ شام کے قریب ضمیر کو کچھ فاصلے پر پرانے درختوں کا جھنڈ نظر آیا۔ وہاں واقعی ایک کنواں تھا۔ کنویں کے منہ پر ایک چھوٹی رسی لٹک رہی تھی، جبکہ درخت کے تنے کے ساتھ مسافروں کے لیے رکھی گئی ایک لمبی رسی بھی لپٹی ہوئی تھی۔ ناصر کنویں میں جھانک رہا تھا تو ضمیر نے آہستہ سے پیر کی ٹھوکر سے وہ لمبی رسی تنے کے پیچھے جھاڑیوں میں سرکا دی اور بولا: ”بھائی، پانی بہت گہرا ہے، یہ رسی نہیں پہنچتی؛ واپس چلتے ہیں۔“ دراصل پانی اتنا نیچے نہیں تھا؛ ضمیر کے دل میں خیال آیا تھا کہ اگر ناصر کو یہاں سے مایوس کر دوں تو بچا ہوا پانی اور یہ کنواں بھی میرے ہی کام آئے گا۔

ناصر نے ضمیر کی بات پر بھروسا کیا اور دونوں واپس لوٹ آئے۔ رات کو جب ناصر گہری نیند سو گیا تو ضمیر چپکے سے اٹھا، مشکیزہ اٹھایا اور کنویں کی طرف چل دیا۔ اس نے جھاڑیوں سے لمبی رسی نکالی، پانی بھرا اور خوب پیا۔ واپسی پر اس نے مشکیزے میں بھی پانی بھر لیا، مگر یہ سوچ کر کہ ناصر کو پتہ چلے گا، اوپر سے تھوڑی سی مٹی چھڑک دی تاکہ مشکیزہ پرانا لگے۔

صبح ناصر پیاس سے بے حال تھا۔ اس کی زبان سوکھ چکی تھی۔ ضمیر نے رسمی ہمدردی جتائی اور کہا: ”بس اللہ پر بھروسا رکھو۔“ اسی وقت اتفاق سے ایک قافلہ اسی راستے سے گزرا۔ قافلے کے سردار نے ناصر کی حالت دیکھی تو فوراً پانی پلایا اور پوچھا کہ قریب کنواں ہوتے ہوئے یہ حال کیسے ہوا؟ ناصر نے حیرت سے کہا کہ کنویں کا پانی تو رسی سے باہر تھا۔ سردار نے مسکرا کر کہا: ”میں برسوں سے اس کنویں سے پانی بھرتا ہوں؛ درخت کے ساتھ اس کی لمبی رسی ہمیشہ رکھی رہتی ہے۔ لگتا ہے کسی نے اسے چھپا دیا تھا۔“

کنویں سے واپس لوٹتے ہوئے ضمیر کا دل ہر قدم پر بھاری ہوتا گیا۔ ایک بار اس کے دل نے کہا: جاگتے ہی ناصر کو سچ بتا دے، پیالہ آدھا اسی کا ہے۔ مگر دوسری آواز، جو ہمیشہ دھیمی اور مکار ہوتی ہے، بولی: سوئے ہوئے آدمی کو کیا خبر؟ ضمیر نے اسی دوسری آواز کی بات مانی۔ کہتے ہیں انسان صحرا میں کم ہی گم ہوتا ہے؛ اصل گمراہی اس وقت شروع ہوتی ہے جب وہ اپنے ساتھی سے نظریں چرانا سیکھ لے۔

سردار کے آدمی کنویں تک گئے تو جھاڑیوں کے پیچھے چھپائی گئی رسی اب بھی گیلی ملی، اور ضمیر کی آستینیں بھی تازہ پانی سے بھیگی ہوئی تھیں۔ ضمیر کا چہرہ زرد پڑ گیا۔ ناصر دیر تک خاموش رہا، پھر اس نے اپنے حصے کا پانی بھی ضمیر کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا: ”پی لو۔ تم نے مجھے صحرا نہیں ہرایا، ضمیر؛ تم نے مجھے وہ سبق دیا ہے جو شہر کی کتابوں میں نہیں ملتا۔ آج سے ہمارا سفر یہیں ختم ہوا، مگر دشمنی نہیں — کیونکہ صحرا میں دشمن کو بھی پیاسا نہیں چھوڑا جاتا۔“

ناصر قافلے کے ساتھ روانہ ہو گیا اور منزل تک بخیر پہنچا۔ ضمیر اسی کنویں کے پاس بیٹھا رہ گیا۔ کہتے ہیں وہ بعد میں جس قافلے کے ساتھ بھی سفر کرتا، لوگ اس کی ”کنویں والی کہانی“ سن کر ساتھی بدل لیا کرتے تھے۔

اور لیلیٰ کہتی ہے، صحرا میں پانی سے قیمتی چیز ایک ہی ہوتی ہے — وہ ساتھی جو آزمائش میں رنگ نہ بدلے۔ 🌙

📌 اخلاقی سبق: دوستی کے دعوے سب کرتے ہیں؛ دوست کی پہچان اس لمحے ہوتی ہے جب اپنا حصہ دینا پڑے۔ جو ساتھی مشکل میں تمہارے لیے اپنی آسانی قربان کر دے، اسے عمر بھر سنبھال کر رکھنا، اور جو پیاس میں بھی پیالہ چھپا لے، اس کے ساتھ سفر ختم کر دینا چاہیے۔

Share · آگے بھیجیں

← Previous · پچھلاNext · اگلا →
← All Kahaniyan · تمام کہانیاں
Copied ✓