کہتے ہیں کہ سمرقند کے ایک بادشاہ کے دربار میں ایک عجیب آئینہ تھا۔ یہ آئینہ ایک پرانے حکمران کے خزانے سے نکلا تھا اور اس کی خاصیت یہ مشہور تھی کہ اس کے سامنے جو شخص جھوٹ بولے، شیشے پر ہلکی سی دراڑ پڑ جاتی ہے۔ سچ بولنے والے کے سامنے وہ آئینہ ایسے چمکتا جیسے ابھی دھلا ہوا چاند ہو۔
بادشاہ اس آئینے پر بڑا ناز کرتا تھا۔ دربار میں جب کوئی مقدمہ آتا تو وہ گواہ کو آئینے کے سامنے کھڑا کر دیتا۔ جھوٹی گواہی والے کے سامنے شیشہ دھندلا جاتا اور بادشاہ مسکرا کر فیصلہ سنا دیتا۔ رعایا کہتی تھی کہ ہمارے بادشاہ کے دربار میں انصاف آنکھوں سے دیکھا جا سکتا ہے۔
مشہور مقدمہ ان دنوں یہ پیش آیا کہ دو بھائیوں میں وراثت کا جھگڑا تھا۔ چھوٹے بھائی نے بڑے پر الزام لگایا کہ اس نے جائیداد کے کاغذات میں ردو بدل کیا ہے۔ بڑا بھائی آئینے کے سامنے کھڑا ہوا تو شیشہ صاف رہا؛ چھوٹا گواہی دینے آیا تو اس کے کپڑے سے پہلے اس کے چہرے کا رنگ بدلا اور شیشہ دھندلا گیا۔ اس نے اسی وقت اقرار کر لیا کہ الزام اس نے حسد میں لگایا تھا۔ اس دن کے بعد کہا جانے لگا کہ سمرقند میں جھوٹ بولنے سے پہلے لوگ آئینے کی طرف دیکھ لیا کرتے ہیں۔
مگر وقت کے ساتھ دربار میں ایک وزیر آ گیا، جس کا نام فرہاد تھا۔ فرہاد ذہین تھا، مگر اس کی ذہانت اس کی خوشامد کے پیچھے چھپی رہتی تھی۔ وہ بادشاہ کی ہر بات میں ہاں میں ہاں ملاتا، ہر فیصلے کو عقلِ کل کہتا، اور ہر غلطی کو تقدیر کا لکھا بتا کر بادشاہ کے دل کو بہلا دیتا۔ رفتہ رفتہ بادشاہ کو اپنے ارد گرد صرف وہی آوازیں پسند آنے لگیں جو اس کے دل کی بات کہتی تھیں۔
فرہاد کی مہارت یہ تھی کہ وہ ہر بات کو بادشاہ کی پسند کے آئینے میں ڈھال کر پیش کرتا۔ بادشاہ کسی منصوبے پر تردد کرتا تو فرہاد کہتا کہ یہی تردد تو عظیم حکمرانوں کی نشانی ہے؛ بادشاہ غصہ کرتا تو فرہاد کہتا کہ یہ غصہ عدل کی آگ ہے۔ آہستہ آہستہ پرانے امیر، جو کھری بات کہنے کے عادی تھے، دربار سے دور ہوتے گئے، اور ان کی جگہ ایسے لوگ آ گئے جن کی زبان پر ہر وقت ”بجا فرمایا“ رہتا تھا۔
ایک دن پڑوسی ریاست سے سفیر آیا اور بادشاہ کو ایک بیش قیمت ہیرا تحفے میں پیش کیا۔ وزیر فرہاد نے ہیرا ہاتھ میں لیا، اسے روشنی میں گھمایا اور بلند آواز میں کہا: ”جہان پناہ! ایسا ہیرا سات سمندر پار بھی نہیں ملے گا۔ یہ آپ کی عظمت کے شایانِ شان ہے۔“
بادشاہ مسکرایا اور عادت کے مطابق ہیرا آئینے کے سامنے رکھ دیا، جیسے وہ ہر قیمتی چیز کو آئینے کی کسوٹی پر پرکھتا تھا۔ اسی لمحے دربار میں سناٹا چھا گیا — آئینے کے بیچوں بیچ ایک لمبی دراڑ نمودار ہوئی اور ہیرے کی چمک اس دراڑ کے سامنے ماند پڑ گئی۔
دراصل ہیرا جعلی تھا؛ اندر سے شیشہ، اوپر سے چمک۔ سفیر کا رنگ اڑ گیا، مگر اصل سوال یہ تھا کہ جھوٹ کس نے بولا تھا؟ ہیرا تو بادشاہ نے خود چنا نہیں تھا؛ جھوٹ دراصل وزیر کے لبوں سے نکلا تھا، جس نے پرکھے بغیر تعریف کر دی تھی، کیونکہ وہ سچ دیکھنا نہیں، بادشاہ کو خوش کرنا چاہتا تھا۔
بادشاہ دیر تک آئینے کی دراڑ کو دیکھتا رہا۔ پھر اس نے آہستہ سے کہا: ”یہ دراڑ ہیرے نے نہیں ڈالی، میرے دربار نے ڈالی ہے۔ جس دن سے میں نے سچ کے بدلے خوشامد خریدنی شروع کی، اس دن سے یہ آئینہ اندر ہی اندر ٹوٹ رہا تھا۔“
اس دن بادشاہ نے دو حکم دیے۔ پہلا: سفیر کو معاف کر کے رخصت کیا جائے، کیونکہ اصلی مہمان نوازی یہی ہے۔ دوسرا: آئینہ ٹوٹا ہوا ہی دربار میں لٹکا دیا جائے، تاکہ آنے والی نسلیں یاد رکھیں کہ جس دربار میں خوشامد کی قدر ہونے لگے، وہاں سب سے پہلے سچ کا آئینہ ٹوٹتا ہے۔
وزیر فرہاد کو اس نے برطرف نہیں کیا، بلکہ اسے یہ نئی ذمہ داری دی: ”آج سے تمہارا کام میری تعریف نہیں، میری اصلاح ہے۔ جس دن تم نے ڈر کر سچ چھپایا، اس دن یہ دراڑ اور لمبی ہو جائے گی۔“ کہتے ہیں کہ فرہاد اس دن کے بعد دربار کا سب سے کھری بات کہنے والا آدمی بن گیا، اور آئینے کی دراڑ برسوں تک وہیں رہی — خاموش، مگر سب کو سبق دیتی ہوئی۔
اور لیلیٰ کہتی ہے، آئینہ کبھی قصور وار نہیں ہوتا، صاحب؛ قصور اس چہرے کا ہوتا ہے جو اس میں جھانکنے سے ڈرتا ہے۔ 🌙
📌 اخلاقی سبق: سچ کڑوا ضرور ہوتا ہے، مگر اسے سننے والا ہی اپنا اصل چہرہ دیکھتا ہے۔ جو حکمران یا انسان اپنے گرد صرف خوشامد جمع کر لے، وہ ایک دن اسی اندھے پن میں گم ہو جاتا ہے۔ سچ بولنے والے کو دشمن نہیں، آئینہ سمجھیے — وہ توڑتا نہیں، دکھاتا ہے۔