کہتے ہیں کہ ساحلِ سمندر کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک مچھیرا رہتا تھا، جس کا نام الیاس تھا۔ الیاس کے پاس ایک پرانی مگر مضبوط کشتی تھی اور ایک جال جو اس کے باپ نے اپنے ہاتھ سے بنا تھا۔ روز صبح وہ سمندر میں نکلتا، شام تک جو مچھلیاں ملتیں وہ بیچ کر اپنے گھر کا گزارا بخوبی کر لیتا۔ گاؤں والے کہتے تھے کہ الیاس کے گھر سے کبھی مہمان بھوکا نہیں لوٹا۔
ایک دن جال پھینکتے ہوئے اسے جال میں کچھ سخت اور گول چیز محسوس ہوئی۔ اوپر کھینچا تو دیکھا: ایک بڑی سیپ، اور اس کے اندر انگلی کے پورے برابر ایک چمکتا ہوا موتی۔ الیاس کے ہاتھ کانپ گئے۔ وہ موتی شہر جا کر بیچا تو اتنی رقم ملی کہ اس کے پورے سال کے خرچ سے زیادہ تھی۔
موتی بیچ کر الیاس جس شام گاؤں لوٹا، اس کے گھر میں عید کا سماں تھا۔ بیوی نے مٹھائی بانٹی، بچوں نے نئے کپڑے مانگے اور الیاس نے اعلان کیا کہ اب ہمارے دن بدلنے والے ہیں۔ دوست احباب مبارکباد دینے آئے تو اس نے ہر ایک کو یہی کہا: قسمت ایک بار در کھٹکھٹاتی ہے؛ دانا وہ ہے جو اسی دن بڑا جال بن لے۔ اسی رات اس نے کاغذ پر بڑی کشتی، بڑے جال اور غوطہ خوروں کا حساب لگایا — ہر لکیر میں سونا تھا، کسی لکیر میں طوفان نہ تھا۔
اسی رات الیاس کو نیند نہ آئی۔ وہ سوچتا رہا: اگر ایک سیپ میں ایسا موتی ہے تو سمندر کی تہہ میں کیسا خزانہ ہو گا؟ میری کشتی چھوٹی ہے، جال پرانا ہے؛ بڑی کشتی ہو تو میں غوطہ خوروں کو ساتھ لے کر خزانہ اکٹھا کر لوں۔ اگلے مہینے اس نے اپنی پرانی کشتی اچھی قیمت پر بیچ دی اور غوطہ خوری کا سامان خریدنے لگا۔ گاؤں کے بزرگ نے روکا بھی: ”بیٹا، جس کشتی نے برسوں روزی دی، اسے خواب کے پیچھے مت بیچو۔“ مگر لالچ کے کان بہرے ہوتے ہیں۔
اس کی بیوی، جو خاموش طبع عورت تھی، ایک شام بولی: ”الیاس، میرا دل کہتا ہے پرانی کشتی مت بیچو۔ اسی نے ہمارے بچوں کو پالا ہے۔ موتی قسمت سے ملا تھا، اسے روزی سمجھ کر رکھو، کشتی کا بدل نہ بناؤ۔“ الیاس ہنس پڑا: ”عورتیں ڈرتی بہت ہیں۔ دیکھنا، ایک دن یہی سمندر مجھے اپنا خزانچی بنا دے گا۔“ بیوی خاموش ہو گئی، مگر اس کی خاموشی میں وہی اندیشہ تھا جو سمندر کنارے رہنے والوں کو پیدائشی طور پر ملتا ہے۔
الیاس نے بڑی کشتی کے لیے قرض بھی لے لیا۔ مہینوں وہ سمندر کی تہہ چھانتا رہا۔ کبھی چھوٹا موتی ملتا، کبھی خالی سیپ۔ خرچ بڑھتا گیا، قرض کا بوجھ بڑھتا گیا، اور وہ دن بھی آیا جب سمندر نے طوفان کا رخ اس کی طرف کر لیا۔ نئی بڑی کشتی، جس کا ابھی آدھا قرض باقی تھا، لہروں نے کنارے کی چٹانوں سے ٹکرا کر توڑ ڈالی۔
الیاس ساحل پر بیٹھا ٹوٹی کشتی کو دیکھتا رہتا۔ اس شام اس کا پرانا دوست، جس نے اس کی کشتی خریدی تھی، مچھلیاں لے کر واپس آیا۔ اس نے الیاس کو اپنے ساتھ کشتی پر بٹھایا اور کہا: ”یہ کشتی اب بھی تمہاری ہی مہمان ہے؛ کل سے تم اسی پر مچھلیاں پکڑو، کمائی آدھی آدھی۔“ الیاس کی آنکھیں بھر آئیں۔
برسوں بعد جب الیاس اپنے پوتے کو جال بنانا سکھاتا تو کہتا: ”بیٹا، موتی مجھے امیر نہیں کر سکا تھا؛ امیری تو اس دن تھی جب میری چھوٹی کشتی اور میرا مطمئن دل دونوں میرے پاس تھے۔ سمندر اسے خزانہ دیتا ہے جو شکر کرتا ہے، اور اس سے چھین بھی لیتا ہے جو لالچ کرتا ہے۔“ گاؤں والے آج بھی اس کی کشتی کو دیکھ کر کہتے ہیں: یہ گاؤں کی سب سے پرانی کشتی ہے، اور اس کا مالک گاؤں کا سب سے مطمئن آدمی۔
اور لیلیٰ کہتی ہے، لالچ کی کشتی میں ہمیشہ ایک سوراخ ہوتا ہے، اور وہ سوراخ آدمی خود کرتا ہے۔ 🌙
📌 اخلاقی سبق: نصیب سے ملی نعمت پر قناعت کرنے والا امیر رہتا ہے اور مزید کی لالچ میں اپنی روزی کا سہارا گنوانے والا آخر کار خالی ہاتھ رہ جاتا ہے۔ لالچ سب سے پہلے اسی ڈالی کو کاٹتا ہے جس پر آدمی بیٹھا ہوتا ہے۔