دل کو چھو لینے والی باتیں — شاعری، اقوال اور کہانیاں
Dil ko chhoone wali baatein — shayari, quotes aur kahaniyan, from the heart, every day.

Follow on Facebook

پرانا برگد اور مسافر

Urdu Kahani · LaylaTales

Kalamnama · کلام نامہ

پرانا برگد اور مسافر

کہتے ہیں کہ ایک گاؤں کے کنارے، مسافروں کے راستے پر، ایک بہت پرانا برگد کھڑا تھا۔ اس کی شاخیں آدھے میدان پر سایہ کیے رہتی تھیں۔ دوپہر کی دھوپ میں قافلے وہیں رکتے، بچے اس کے نیچے کھیلتے، اور گرمیوں میں پورا گاؤں شام کو اسی کے سائے میں جمع ہوتا۔ بوڑھے کہتے تھے کہ یہ درخت ان کے دادا کے بچپن میں بھی اتنا ہی بڑا تھا۔

اسی گاؤں میں ایک نوجوان بڑھئی رہتا تھا، جس کا نام سلیم تھا۔ سلیم ہنر مند تھا، مگر اس کی نظر ہمیشہ نفع پر رہتی تھی۔ ایک دن شہر کے ایک لکڑی کے تاجر نے برگد کو دیکھ کر کہا: ”ایسی لکڑی محلوں کے دروازوں میں لگتی ہے۔ اگر یہ درخت کٹ کر میرے پاس آ جائے تو میں تمہیں تین برس کی کمائی ایک دن میں دے دوں۔“ سلیم کی آنکھوں میں سونے کی چمک اتر آئی۔

مگر درخت گاؤں کی مشترکہ زمین پر تھا اور اسے کاٹنے کے لیے پنچایت کی اجازت درکار تھی۔ سلیم نے گاؤں والوں کو سمجھانا شروع کیا: ”یہ درخت بوڑھا ہو چکا ہے، کسی دن گر کر نقصان کرے گا۔ اس کی قیمت سے ہم گاؤں میں پکا کنواں بنوا سکتے ہیں۔“ کچھ لوگ اس کی باتوں میں آ بھی گئے۔ پنچایت اگلے ہفتے بیٹھنے والی تھی۔

سلیم کی باتیں سنتے ہی گاؤں دو حصوں میں بٹ گیا۔ جوان کہتے تھے کہ بوڑھا درخت کب تک کام آئے گا؛ کنواں بنے گا تو نسلیں فائدہ اٹھائیں گی۔ بوڑھے سر ہلاتے رہتے: ”بیٹو، چھاؤں کی قیمت دھوپ میں پتہ چلتی ہے، اور دھوپ ہر برس آتی ہے۔“ ایک شام برگد کے نیچے ہی دبیز بحث ہوئی؛ سلیم نے اعداد و شمار گنوائے اور بزرگ چپ رہے — مگر ان کی چپ میں وہی وزن تھا جو پرانی جڑوں میں ہوتا ہے۔

اسی دوران سلیم کے دادا، جو نوے برس کے تھے، سخت بیمار پڑ گئے۔ ایک شام انہوں نے سلیم کو پاس بلایا اور کمزور آواز میں کہا: ”بیٹا، جس دن تم پیدا ہوئے تھے، اسی ہفتے ایک ایسا قحط پڑا تھا کہ گاؤں کے چولہے بجھ گئے تھے۔ تب اسی برگد کے نیچے شہر کے ایک سخی تاجر نے پورے گاؤں کے لیے لنگر لگایا تھا — پورے چالیس دن۔ تمہاری دادی کہتی تھی کہ ہم اسی چھاؤں کے نیچے بچے تھے۔ جس درخت کے سائے میں تمہاری پہلی سانس سلامت رہی، اسے آج تم سونے کے عوض بیچنے چلے ہو؟“

اسی رات سلیم کو بچپن کا ایک دن یاد آیا جب وہ بخار میں تپ رہا تھا اور گاؤں کے حکیم نے دوا کے ساتھ یہ بھی کہا تھا: بچے کو دوپہر برگد کی چھاؤں میں لٹاؤ، ٹھنڈی ہوا اس کی دوا ہے۔ ماں نے اسے اسی درخت کے نیچے لٹایا تھا۔ سلیم نے سوئے ہوئے دادا کا ہاتھ تھاما اور دھیرے سے کہا: ”دادا جان، میں نے سودا کینسل کر دیا ہے۔ جس چھاؤں نے مجھے دو بار زندگی دی، وہ بک نہیں سکتی۔“ دادا نے آنکھیں کھولے بغیر مسکرا کر اس کا ہاتھ دبا دیا۔

سلیم ساری رات سو نہ سکا۔ صبح وہ پنچایت سے پہلے تاجر کے پاس گیا اور صاف انکار کر دیا: ”یہ درخت بکاؤ نہیں؛ یہ ہمارے گاؤں کی امانت ہے۔“ تاجر ہنسا: ”لکڑی کا سودا تھا، امانت کہاں سے آ گئی؟“ سلیم نے کہا: ”جس دن اس کے سائے میں میری جان بچی تھی، اسی دن سے یہ امانت ہے۔“

پنچایت میں سلیم نے خود درخت کے حق میں بات کی اور تجویز پیش کی کہ گاؤں مل کر کنواں اپنے پیسوں سے بنوائے۔ لوگوں نے چندہ دیا، کنواں بنا، اور برگد کے تنے پر ایک چھوٹی سی تختی لگائی گئی: ”یہ چھاؤں ان کی امانت ہے جو آئیں گے۔“ سلیم کے دادا اسی برس چل بسے، مگر جاتے ہوئے ان کے چہرے پر وہی سکون تھا جو برسوں پہلے لنگر والی شام کو تھا۔

آج بھی اس راستے سے گزرنے والے مسافر اسی برگد کے نیچے رکتے ہیں۔ اور گاؤں کے بچے تختی پڑھ کر بڑے ہوتے ہیں کہ درخت فقط لکڑی نہیں ہوتے؛ بعض درخت پورے گاؤں کی یادداشت ہوتے ہیں۔

اور لیلیٰ کہتی ہے، جو درخت دوسروں کو چھاؤں دیتا ہے، زمانہ اس کی جڑیں خود سیراب کرتا ہے۔ 🌙

📌 اخلاقی سبق: بزرگوں کی نعمتیں — چاہے وہ درخت ہو، روایت ہو یا کوئی پرانا رشتہ — وقتی فائدے کی خاطر کاٹ ڈالنا آسان ہے، مگر ان کی قیمت اس دن سمجھ آتی ہے جب دھوپ سر پر ہو اور چھاؤں کہیں نہ ملے۔ شکر گزاری یہی ہے کہ نعمت کی حفاظت اس سے پہلے کی جائے کہ وہ یاد بن جائے۔

Share · آگے بھیجیں

← Previous · پچھلاNext · اگلا →
← All Kahaniyan · تمام کہانیاں
Copied ✓